علی گڑھ تحریک کے بُنیادی مُحرِکات میں کلکتہ کی شمولیت

سر سید احمد خان کی یوم پیدائش پرخصوصی پیش کش

\"\"
٭پروفیسر صغیرافراہیم

سابق صدر،شعبۂ اردو
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ-۲

\"\"
کہا جاتا ہے کہ انیسویں صدی کی طلوع صبح محض ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے ہی نہیں بلکہ ہم ہندوستانیوں کے لیے بھی ایک نیا پیغام لے کر آئی۔ مشرقی تعلیم کو مغربی نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی اولین کوشش مدرسہ عالیہ کے قیام کی شکل میں سامنے آئی۔۱؎ لیکن لسانیاتی نقطۂ نظر سے فورٹ ولیم کالج کاقیام بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ولزلی (Wellesley ۱۷۹۸ء۔۱۸۰۵ء) کے حکم سے ۱۸؍ستمبر ۱۸۰۰ء کو گل کرسٹ (Gilchrist) کا تقرر عمل میں آیا اور اِس کالج میں ۱۵؍نومبر (۱۸۰۰ء) کو ہندوستانی زبان کا پہلا لیکچر ہوا۔ یہ لیکچر اردو زبان وادب کے فروغ میں معاون اور دبستانِ مرشد آباد کے لیے میل کا پتھر ثابت ہوا۔

دبستانِ دکن، دہلی اور لکھنؤ کے بعد مرشدآباد کی شکل میں نمودار ہونے والا یہ دبستان اپنی الگ پہچان رکھتا ہے کہ اِس نے ہندوستانی زبانوںکو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ۳؍دسمبر ۱۸۵۸ء کو آرٹس میں کلکتہ یونیورسٹی۲؎ سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے والے بنکم چندر چٹو پادھیائے اور یدوناتھ بوس نہ صرف پہلے ہندوستانی تھے بلکہ مشترکہ تہذیب وتربیت اور جدید علوم وفنون کے حصول کے لیے بھی مثالی ثابت ہوئے۔ سرسید احمد خاں نہ صرف صوبہ بنگال تشریف لائے اور ادبی واصلاحی سرگرمیوں سے منسلک رہے بلکہ ۱۸۷۶ء میں کلکتہ یونیورسٹی کے فیلوبھی نامزد ہوئے۔ اور پھر جب وہ ۱۸۷۸ء میں وائسرائے کونسل کے ممبر نامزد ہوئے تو اُن کا قیام خاصے طویل عرصہ تک کلکتہ میں رہا۔ ۱۸۸۲ء سے ۱۸۸۶ء تک ایم۔اے۔او۔ کالج علی گڑھ کا الحاق کلکتہ یونیورسٹی سے ہی رہا ۔تفصیل کا یہ موقع نہیں لیکن ہُگلی کے کنارے بسا ہوا یہی وہ دیارِ علم وادب ہے جس نے مفاہمتی انداز اختیار کیا اور قوم کو نئی روشنی عطا کی۔ اِس کی ضوپاش کرنوں کو دیکھنے اوراُن سے مستفیض ہونے کے لیے ۶؍اکتوبر ۱۸۶۳ء کو سرسید احمد خاں نے کلکتہ کے لیے قصدِ سفر کیا ۔ مجاہدِ علم وعمل صوبہ بنگال کی ترقی سے متاثر تھے وہ اِس عمل سے اور بھی خوش تھے کہ اپریل ۱۸۶۳ء میں نواب عبداللطیف نے محمڈن لٹریری سوسائٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ اِسی بزم کے تحت سرسید کو ضرورتِ ترقئ علم وتہذیب درمیان اہل ہند، جیسے اہم اور جدید موضوع پر ’ترغیب تعلیم انگریزی‘ کے عنوان سے فارسی میں تقریرکی دعوت دی گئی تھی۔ اِس کا پورا خاکہ لیفٹیننٹ کرنل جارج فارکوہر اِرونگ گراہم نے ’’دا لائف اینڈ ورک آف سید احمد خاں‘‘ (مطبوعہ ۱۸۸۵ء، لندن، ص:۷۷) میں کھینچا ہے۔ ۳؎
محمد اسماعیل پانی پتی مقالاتِ سرسید (حصّہ دوازدہم تقریری مقالات) میں تمہید کے طور پر لکھتے ہیں:
’’۶؍اکتوبر ۱۸۶۳ء کو مجلس مذاکرہ علمیہ کلکتہ کے ایک اجلاس میں برمکان آنریبل مولوی عبداللطیف خاں صاحب سرسید نے یہ مقالہ لکھ کر پڑھا جو فارسی میں تھا اور جس میں اس امر کی ترغیب دی گئی تھی کہ مسلمانوں کو اپنے اسلامی اور قومی اور دینی علوم کی تحصیل کے ساتھ انگریزی زبان اور اُس کے علوم بھی حاصل کرنے چاہئیں تاکہ ہم حکمراں قوم کے افکار و خیالات سے بخوبی واقف ہوسکیں‘‘۔ (ص:۲۸۵)
سرسید نے دانشورانِ بنگال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مقالہ کے آغاز میں کہا:
’’میں آپ کے روبرو۔۔۔ اپنے دل کا درد بیان کرنا چاہتا ہوں__ اورمیرا درد کیا ہے؟ وطن کی محبت، وطن کی محبت اور بس‘‘۔۴؎
وہ تمثیلی انداز میں صوبہ بنگال کی خوبیوں کے ذکر کے ساتھ سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے جذبات و تاثرات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں:
’’جب ہم اس فیروزہ رنگ قلعہ میں آئے ہیں، اپنی ہی صورت کو خود بند قلعے کے آئینے میں مختلف رنگوں میں دیکھتے ہیں تو فکر کرتے ہیں کہ کیسے اس مصورانہ اور مخصوص تشخص میں اپنے آ پ کو مکمل کریں۔ بجز اس کے کوئی راستہ نہیں ہے کہ اپنے مابین سے تغیرات اعتباری کو اکھاڑ پھینکیں اور بذاتِ خود جو کرسکتے ہیں اُ سے کرگزریں‘‘۔۵؎
فضا کو اپنے موافق بناتے ہوئے جوشیلے انداز میں کہتے ہیں:
’’اٹھو اور آئینہ خود اپنے ہاتھ میں لو اور بغور دیکھو، غور کرو کہ جو کچھ ہم کررہے ہیں کیا اس میں یہ مصوری نظر آرہی ہے یا مصوری جو ہمیں بتارہی ہے وہ ہم کررہے ہیں؟ جب یہ حقیقت مسلم ہوگئی تو یہ لازم ہوجاتا ہے کہ جس طرح ہم اپنے فلاح وبہبود اور رفاہ کے لیے کوشاں ہیں بعینہٖ اسی طریقے سے ہم کو چاہیے کہ دنیا کی تمام موجودات کی فلاح وبہبود کی سعی کی جائے‘‘۔۶؎
سرسید اپنے اس پُرمغز مقالہ میں بنی نوع انسان کی فلاح وبہبود کے لیے جذبۂ محبت اور خلوصِ دل پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:
’’محبت کے بے شمار درجے ہیں۔ اس کا سب سے اعلیٰ وارفع درجہ یہ ہے کہ دنیا کی تمام موجودات کو حقیقت میں اپنی طرح سے جانیں جیسے اگر ہم دیکھیں کہ کسی درخت سے پتہ ٹوٹ کر گرا ہے تو اسی وقت ہمارے دل میں ہمدردانہ درد پیدا ہوجائے گویا ایسا محسوس ہو جیسے ہمارے ہاتھ یا پیر کے ناخنوں میں سے ایک ناخن ٹوٹ کر گرگیا ہو‘‘۔۷؎
اُن کے اِس مضمون سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ اشرف المخلوقات ہی نہیں، چرند وپرند ، حیوانات ونباتات سے بھی محبت کرتے تھے۔ احساسِ قلبِ دروںکے فطری جذبات و احساسات کو مختصر ترین الفاظ میں سمیٹتے ہوئے وہ آگے فرماتے ہیں:
’’محبت کے درجوں میں سے دوسرا یہ کہ دنیا کی تمام جاندار جو کہ ہم سے بہت زیادہ مشارکت اور مشابہت رکھتے ہوں اُنھیں پسند کریں، دوست رکھیں اور جہاں تک دل گواہی دے اُن کے ساتھ نیکی ومہربانی فرمائیں‘‘۔۸؎
اور محبت کا تیسرا درجہ جو سب سے اعلیٰ ہے وہ یہ کہ ہم تمام انسانوں کو اپنا مانیں، اپنے قریب سمجھیں، اُن کے ساتھ مساویانہ سلوک کریں۔ وہ اس جذبۂ انسانی پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہی قوم سے محبت ہے، حُبِ قومی ہے۔ اس احساس کے لیے وہ ’’قوم کے دیگر رہبران سے بھی اُمید کرتے ہیں کہ اُنھیں ہم وطنوں کی فلاح وبہبود میں کمر باندھ لینا چاہیے‘‘۔ موصوف مثالوں سے واضح کرتے ہیں کہ شمالی ہند کے بیش تر افراد خوابِ غفلت میں مبتلا ہیں۔ کچھ لوگ اُنھیں بیدار کرنا چاہتے ہیں ’’لیکن وہ بیدار نہیں ہورہے ہیں۔ اس سے میری کوششوں میں کمی نہیں آئے گی۔ کوئی سُنے یا نہ سُنے میں اپنا عمل جاری رکھوں گا،گفتگو کرتا رہوں گااور عوامی بیداری کے جتن کرتا رہوں گا‘‘۔ سرسید بنگال اور دیگر صوبوں خصوصاً پُورب کا موازنہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’میں آپ حضرات کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ہر وقت اپنے ہم وطنوں اور قوم کے لوگوں کی فلاح وبہبود میں مسلسل سرگرم ہیں‘‘۔(ص: ۲۹۴)
کاش یہ جذبہ شمالی ہند میں بھی اسی شدت سے پیدا ہوجائے جس پر کبھی سبھی کو ناز تھا:
’’۔۔۔وہ سب کا سب برباد ہوچکا ہے۔ اور ہمارے قدیم دارالسلطنت میں اب کچھ باقی نہیں رہا ہے سوائے چند بوسیدہ استخوان اور کچھ پُرانی درودیوار کے، خلیج بنگالہ سے لے کردریائے سندھ تک پورے ملک میں اب صرف یہ صوبہ بنگالہ اور شہر کلکتہ ہی اپنی شان وشوکت برقرار رکھے ہوئے ہے۔لہٰذا اپنے عہد کے اس دارالامارت پر ہم سب کو ناز ہے‘‘۔(ص: ۲۹۴)
اُن کا پُر اُمید انداز ملاحظہ ہو:
’’ اب ایسے میں:اگر آپ بھی اپنے ہم وطنوں اور قوم کے لوگوں کے لیے فلاح وبہبود اور اُن کی کامیابی کے لیے کوشاں نہیں ہوں گے تو پھر کون ہمارا پُرسان حال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو سرسبز وشاداب رکھے اور روزبروز آپ کے جذبۂ حب الوطنی میں اضافہ کرے‘‘۔ (ص:۲۹۴)
خوبی یہ ہے کہ سیدِ والاگُہر ملک کے منظر نامے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی تبدیلیوں کو بھی بارہ صفحے کے اپنے مضمون میں علامتی طور پر سمیٹ لیتے ہیں۔ بقول اُن ہی کے کہ ہم جدید دور کے تقاضوں سے نابلد ہیں۔ ہمیں اِس پہلو سے عوام کو روشناس کرانا ہوگا کہ جرمن، فرانسیسی نیز یورپ کی دیگر زبانوں میں جدید علوم وفنون پر بہت کام ہورہا ہے جن کا انگریزی میں ترجمہ موجود ہے۔ ہم تمام زبانیں تو نہیں لیکن انگریزی کے ذریعہ ان سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ لہٰذا انگریزی زبان کی اہمیت کے پیش نظر کہتے ہیں کہ آج ’’تمام علوم وفنون جدیدانگریزی زبان میں ہیں اور ہمارے ہم وطنوں کو ابھی تک اس تحصیل میں خاطر خواہ مناسب توجہ نہیں ہوئی ہے آخر کیوں؟کیا اس میں مذہبی تعصب مداخلت کررہی ہے‘‘۔(ص: ۲۹۵)
پھر خود ہی جواب دیتے ہیں کہ:
’’ زبان کو سیکھنے میں مذہبی تعصب کو کیا دخل ہے؟ کیا ہم فارس ویونان کی حکمت اور اُن کے علم کے قائل نہیں ؟ جب اس میں مذہبی تعصب کارفرما نہیں ہوسکا تو پھر جدید انگریزی علو م کی تحصیل میں مذہبی تعصب کہاں سے کارفرما ہوتا ہے؟ بلاشبہ ’’عربی زبان افضل ترین زبان ہے‘‘۔ مگر حالات کے پیش نظر جدید علوم وفنون کی انگریزی کتابوں کا فارسی، عربی اور اردو میں ترجمہ کریں محض اس لیے نہیں کہ حکام کی زبان انگریزی ہے یا مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے یہ ضروری ہے بلکہ آئندہ ناواقفیت کی وجہ سے بہت سی رکاوٹیں آئیں گی مثلاً :’’اگر کوئی ضروری پیغام برقی قوت سے ہم بھیجنا چاہتے ہیں تو بغیر انگریزی زبان سے ناواقفیت کے اس کو نہیں بھیج سکتے ہیں۔ میں اس لیے بھی یہ کہہ رہا ہوں کہ ہمارے دیگر ہم وطن بھائی انگریزی زبان کو سیکھنے میں ہم سے سبقت لے گئے اور روز بروز ترقی کرتے جارہے ہیں ایسے میں ضروری ہے کہ انگریزی زبان کو سیکھنے کے لیے مناسب قدم اُٹھائیں‘‘۔
وہ جدید علوم وفنون کی کتابوں کے ترجمہ کے تعلق سے فرماتے ہیں: ’’میں ترجمہ کا متمنی اس لیے ہوں کہ اگر وہ شہ پارے ترجمہ نہیں ہوں گے تو جدید علوم و فنون کی تحصیل انگریزی زبان میں ہمارے لیے بہت کم ہوجائے گی اور وہ چند لوگ جن کو اس زبان میں مکمل دسترس حاصل ہے ان کو ہی فائدہ حاصل ہوگا‘‘ ۔
وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جوحالات ہیں اُن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بہت جلد انگریزی زبان ہمارے وسیع ملک ہندوستان میں رائج ہوجائے گی: ’’لہٰذا ہم اس کے حصول میں جتنی بھی تاخیر کریں گے ہماری دوسری مشکلیں روز بروز بڑھتی چلی جائیں گی اور دنیاوی ترقی کا مقصد ہمارے ہاتھ سے چلا جائے گا۔۔۔۔
حاضرین! وقت کو ہاتھ سے مت جانے دو اور اہلِ ہند کی سامان تربیت کے لیے آمادہ ہوجاؤ اس لیے کہ ہاتھ سے گیا ہوا وقت اور کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آتا‘‘۔(ص: ۲۹۵)
کلکتہ میں علمی حلقہ سرسید سے متعارف تھا کیوں کہ اس عالمانہ تقریر سے ایک سال قبل یعنی ۱۸۶۲ء میں وہ ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کے سکریٹری کی درخواست پر تاریخ فیروز شاہی کی تصحیح وتدوین کرچکے تھے۔ نواب عبداللطیف کے دولت کدہ پر مذاکرے ومباحثے نے اُنھیں بہت کچھ سوچنے پر مجبورکردیا تھا۔ وہ کلکتہ کی روشن خیالی اور قرب وجوارکے علمی اور ادبی ماحول سے کس حد تک متاثرہوئے اِس کا واضح ثبوت اِس عمل سے ملتا ہے کہ تین ماہ بعد غازی پور میں سرسید نے ۹؍جنوری۱۸۶۴ء کو سائنٹفک سوسائٹی کے قیام کی تجویز رکھی جسے مکمل تائید کے ساتھ پُرزور انداز میں منظور کرلیا گیا۔ کلکتہ کے طرزِ پر غازی پور میں جو کمیٹی ترتیب دی گئی اُس میں راجہ شیوپرشاد اور بھارتیندو ہریش چندر کو ممبر بنایا گیا۔ سائنسی فکروعمل پر مبنی اس سوسائٹی نے علی گڑھ تحریک کی آبیاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ خاص طور سے حافظ محمد علی قادری اور اُن کے بھائی محمد عبدالصمد نے اِس کی تنظیم وتعمیر میںممکن مدد کی۔ بلکہ غازی پور کی صمد منزل میں ہی سرسید نے صحافت اور تعلیم وتربیت کا خاکہ بھی تیار کیا جس نے آگے چل کر ’گزٹ‘ ،’تہذیب الاخلاق‘ اور ’مدرسۃ العلوم‘ کی شکل اختیار کی۔
جدید سائنسی علوم وفنون کو قوت بخشنے والی زبان سے رغبت، مشرق کی صحت مند اقدار سے چاہت اور تمام مخلوقات سے اُنسیت کو سمیٹے ہوئے سرسید کے اِس مختصر مگر جامع مقالے میں پیش کردہ خیالات اور دیگر تحریروں سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ ہمیں انگریزوں سے زندگی گزارنے کے سائنٹفک آداب اور جدید طرزِ تعلیم سیکھنا چاہیے مگر اس ہدایتِ خاص کے ساتھ کہ تربیت اور تعلیم کا مشرقی انداز بھی ہر قیمت پر برقرار رہے جس کی مثال اے۔ایم۔یو۔ علی گڑھ ہے اور اسی سبب سے انھوں نے انگریزوں سے مفاہمت کی لیکن عزتِ نفس سے سمجھوتہ نہیں کیا، حقائق سے راہِ فرار اختیار نہیں کی بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر، ہوش مندی اور دُور اندیشی کے ساتھ قوم وملت کی فلاح وبہبود کے لیے انقلابی قدم اُٹھایا۔ شاید اُن کے پیش نظر صُلح حدیبیہ ہو جو ہم سب کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ وہ آنکھیں بند کرکے ہاں میں ہاں ملانے والے نہیں بلکہ غوروفکر کے ساتھ معاملات کو برتنے والے مفکر تھے۔ انھوں نے قدامت اور روایت پرستی کے اُس انداز پر ضرب لگائی جو عقل وفہم کو مجروح کرتی ہو۔ ایسے میں انھوں نے چنوتیاں دیں اور قبول بھی کیں، اختلافات درج کیے اور معاملات میں استقلال اور ثابت قدمی کا ثبوت بھی دیا۔یہ سب کچھ انھوں نے اپنے ملک اور اُس کے باشندوں کے لیے کیا۔ آج عالمگیریت اور صارفیت کا دور ہے۔ اس میں فرقہ واریت اور عصبیت کا گزر نہیں ہونا چاہیے لیکن چند شدّت پسندجو ذہنی خلفشار میںمبتلا ہیں وہ ترقی اور رواداری کے ماحول کوبگاڑنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں بلکہ روشن خیال، وسیع القلب اور وسیع النظر لوگوں پر طرح طرح کے، بے بنیاد الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔ایسے متعصب اور تنگ نظر ذہنی مریض دانش کدہ علی گڑھ اور اُس کے بانی پر بھی کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ اُن کی ہٹ دھرمی، حقائق ودلائل پر دھیان ہی نہیں دیتی ہے۔ حیرت واستعجاب کادائرہ اُس وقت بڑھتا ہے جب الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی اُن کے سحر میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ تبھی تو شاید سابق صدر جمہوریہ ہند عزت مآب پرنپ مکھرجی کو اپنی تقریر میں سرسید کی روشن خیالی کااحاطہ کرتے ہوئے اُن کی حب الوطنی اور یکجہتی کے جذبہ کو واضح کرنا پڑا۔ مشہور مؤرخ ومفکر پروفیسر آدتیہ مکھرجی کو اپنے خطاب میں تاریخ سے چھیڑ چھاڑ کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے سرسید کی دُور رسی اور دُور بینی کی وکالت کرنی پڑی۔
مسئلہ معترضین کی نکتہ چینیوں پر لگام لگانے کا نہیں بلکہ نئی نسل کو پراگندہ اور زہرآلود ماحول سے نجات دلانے کا ہے اور اس کے لیے منفی نہیں مثبت رویہ کی ضرورت ہے کیوں کہ سرسید نفاق کے نہیں اتحاد واتفاق کے علمبردار تھے۔ کل سرسید اسی دیارِ امن وآشتی اور گہوارۂ علم وادب سے رجوع ہوئے، آج پھر نونہالانِ علی گڑھ کو اِسی شہرِ انقلاب، کولکتہ سے اُمیدیں وابستہ ہورہی ہیں کہ ملک میں بڑھ رہی اندھی تقلید، غیر عقلیت اور توہم پرستی کے دُھندبھرے ماحول سے نجات ملے گی اور جدید ترین علم وادب کے ساتھ انسانیت، محبت اور مساوات کی فضا معمور ہوگی۔

٭٭٭
حواشی
۱۔ ستمبر ۱۷۸۰ء میں (وارن ہسٹینگز گورنر جنرل کے عہد میں) درخواست پیش کی گئی۔ اگلے ماہ مدرسہ کا قیام عمل میں آیا۔ ۱۸۱۹ء میں مولوی کی جگہ انگریز سکریٹری مقرر ہوا۔ ۱۸۲۱ء سے سند دینے کی جگہ جدید طرز پر امتحانات طے کیے گئے۔ ۱۸۲۶ء سے انگریزی تعلیم کو شامل کیا گیا جس کی مسلمانوں نے مخالفت کی مگر ہندوؤں نے اسے قبول کرلیا۔ لہٰذا ۱۸۲۹ء میں شعبۂ انگریزی بھی وجود میں آیا اور ۱۸۵۰ء میں اس مدرسہ کا انگریز پرنسپل مقرر ہوا۔
۲؎ ۲۳؍جنوری ۱۸۵۷ء کوکلکتہ یونیورسٹی قائم ہوئی۔
۳؎ Sir Syed\’s Speech Before the Mohammadan Literary Society (at Calcutta, October 1963), \”The reason, gentlemen, why we are all so backward nowaday, is that whilst we are learned in and benefited by the philosophy, science and arts of antiquity, we are almost entirely ignorant of those of modern times, which the youth of the present age seems so much to admire. Let us now consider how it is that this is the case. Many grand works have been written in the German, French and other language. These, however, are all to be found translated into English. England has produced as many, if not more, grand works than other nations. Now, as we are not likely to become proficient in German, French, &c, as we have all their learned works in the English tongue, and as Hindustan is now governed by the English, I think it is very clear that English is the language to which we ought to devote our attention. Is it any prejudice that prevents us from learning it? No: it cannot be so with us. Such is only said by those who do not know us. No religious prejudices interfere with our learning any language spoken by any of the many nations of the world. From remote antiquity have we studied Persian, and not prejudice has ever interfered with the study of that language. How, then can any religious objection be raised against our learning and perfecting ourselves in English?.
Source: Lieut, Col. G.F.I, Graham, The Life and work of Syed Ahmad Khan, (London 1885),77.
۴؎ ’’حضرات من۔ شما نیکومیدانید کہ من کم مایہ وبے بضاعت لیاقت آں ندارم کہ رو بروئے ہم چو بزرگان عالی مقام زبان بہ تکلم کشایم، زبانے کی بہ جسارت رو بروئے شما کشادہ گردد بستہ باد ودلے کہ بمخالفت شما برانگیختہ شود شکستہ باد، زبان کشادن بہ بیان درد دل خویش بہ حضور حضرت شما نیست بجز آنکہ کرم ہائے شما ما را دلیر ساختہ کہ اینک بخدمت شما بہ پا ایستادہ ام و درد دل خود را گفتن می خواہم وخود گلۂ از خود سرودن آرزو دارم۔ چیست گلہ وچیست درد۔ حب وطن است و حب وطن است دبس‘‘(ص: ۲۸۶)
اردو کا کلاسیکی ادب : مقالاتِ سرسید، مرتب مولانا محمد اسماعیل پانی پتی، مطبوعہ مجلس ترقی ادب، لاہور، ص: ۲۸۶
۵؎ ’’چوں ما دریں کاخ فیروزہ رنگ آمدہ ایم وخود صورت خود را دریں کاخ آئینہ بند بہر رنگے می بینیم چگونہ با آں ہمہ تمثال ہا بسازیم و چساں بآن ہمہ تشخصات اعتباری بسر بریم وآنچہ با خود کردن می خواہیم با ہمہ آن بکنیم‘‘(ص:۲۸۷)
۶؎ ’’برخیزد آئینہ بدست خویش گیر و صورت خود را بہ بین وبنگر کہ آنچہ با خود می کنی ہماں بآں تمثال خیالی می کنی وآنچہ بآں تمثال میکنی در نفس الامر باخود می کنی۔ چوں ایں مقدمہ مسلم گشت بما ہمیں ساں ما را در سود وبہبود وجمیع موجودات عالم سعی کرد نیست چہ آں ہمہ در حقیقت نسبت بہ حقیقت واحدہ است کہ من ہم ازاں‘‘۔ (ص ۲۸۹)
۷؎ ’’محبت را درجات بے شمار است۔ اعلی وافضل آں ست کہ تمام موجودات عالم را عین حقیقت خود دانیم اگر بینیم کہ کسے برگ کاہے بجفا شکستہ است دل ہمیں حال بدرد در آید کہ گویا ناخنے از ناخن ہائے دست وپائے من برشکستہ‘‘ (ص: ۲۹۲)
۸؎ دوئمیں درجہ محبت آنست کہ جمیع ذی روح را کہ مشارکت بسیار ومشابہت بے شمار با ما دارند دوست دارم وہرکہ جگر تر دارد باونیکی کنم‘‘ (ص: ۲۹۳)
پروفیسرصغیر افراہیم
سابق صدر،شعبۂ اردو
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ-۲
٭٭٭

 

Leave a Comment