این سی پی یو ایل کا سرکلر جمہوریت پر داغ!

ڈائرکٹر واضح کریں کہ انہوںنے آئین کا حلف لیا ہے یا پھر 1937کے ساورکر کے عہد وپیمان کا: طارق انور
\"Shri-Tariq-Anwar\"
نئی دہلی،21/اپریل ، (پریس ریلیز) ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ذریعہ جاری کئے گئے اس حلف نامہ کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لوک میں سبھا میں لیڈر اور آل انڈیا قومی تنظیم کے قومی صدر طارق انور نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ اگر مصنفین یا مولفین کو اپنی کتابوں کی اشاعت کیلئے کوئی مالی مددچاہئے تو انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سرکار کیخلاف کوئی چیز ان کی کتابوں میں نہ آئے ۔ ا س سرکلر پر سوال اٹھاتے ہوئے طارق انور نے کہاکہ پہلے پولرائزیشن کی سیاست کرکے مودی سرکار نے ملک کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی جانب دھکیلا اور اب ایسا لگتا ہے کہ وہ ملک کے مورخین اور مولفین پر بھی ایمرجنسی کوتھوپنا چاہ رہی ہے ۔ طارق انور نے کہاکہ اس سرکلر پر کونسل کے ڈائرکٹر نے صفائی دیتے ہوئے کہاہے کہ کونسل چونکہ سرکا ری ادارہ ہے اور وہ سرکا کے ملازم ہیں اس لئے ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکار کیخلاف کوئی چیز نہ جائے اور اگر کوئی سرکار سے مدد چاہتا ہے تووہ اس بات کا حلف نامہ دے کہ اس کی کتاب میں سرکا رکیخلاف کچھ نہیں ہے ۔ طارق انور نے کہاکہ یہ ایک سچائی ہے کہ ڈائرکٹر سرکار کا ملازم ہوتا ہے ، لیکن کیا ڈائرکٹر نے بھارت کے آئین کے علاوہ کسی اور آئین کا حلف لیا ہے جس میں یہ کہاگیا ہے کہ وہ سرکار کے ہر سیاہ و سفید فیصلہ کا پابند ہوگا ۔ طارق انور نے کہاکہ ڈائرکٹر کو ملک اور قوم کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ کیا ان کا بھارت کے آئین پر یقین ہے یا اس دو قومی نظریہ پر جو ساورکر نے 1937میں پیش کیا تھا جس پر آرایس ایس کی بنیادیں ٹکی ہوئی ہیں اور جو بھارت جنتا پارٹی کے لگام اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہوئے ۔ ملک کے جمہوری تانے بانے کیلئے اس سرکلر کو سیاہ بتاتے ہوئے طار ق انور نے کونسل سے اسے فوراً واپس لینے کی اپیل کی ہے ۔ ساتھ ہی انہوںنے اس پورے معاملہ میں اردو والوں سے متحد ہونے کی بھی اپیل کی ۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ کو نسل کے ڈائرکٹر کو اشوک باجپئی جیسے لوگوں سے نصیحت حاصل کرنی چاہئے ۔

Leave a Comment