سرسید کی فکر ونظر اور مسلمان

سر سید احمد خان کی یوم پیدائش پرخصوصی پیش کش

\"pic4newspaper\"
٭ڈاکٹر مشتاق احمد
موبائل:9431414586

ای میل: rm.meezan@gmail.com

\"Sir

کسی عظیم شخصیت کے افکار ونظریات کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس عہد پر بھی نگاہ رکھی جائے کہ جس عہد کے وہ پروردہ ہیں ۔ کسی بھی شخصیت کی تعمیر اور فکری استحکام میں تغیرِ زمانہ کا اہم کردار ہوتا ہے ۔ سرسید احمد خاں جیسی نابغۂ روزگار شخصیت اور ان کے افکار ونظریات پر گفتگو کرنے سے قبل ان کے عہد کے سیاسی، سماجی ومعاشرتی حالات کے ساتھ ساتھ ان کے تصور ِحیات کو بھی سمجھناضروری ہے ۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز سے 1857ء تک کے ہندوستان میں جو سیاسی وسماجی تبدیلیاں رونما ہوئیں ان پر سرسری نگاہ ڈالنے سے یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ عہد کس قدر پامالیٔ اقدار ، سماجی اور طبقاتی کشمکش کا تھا 1857ء کی پہلی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد ایک طرف ہندوستانیوں کے دلوں میں حب الوطنی کی چنگاری شعلہ کا روپ اختیار کرتی جا رہی تھی تو دوسری طرف فاتح انگریزی حکومت نے اپنی بربریت کے شکنجے کو پہلے سے کہیں زیادہ کسنا شروع کر دیا تھا ۔ نتیجتاً اب انگریزی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کو دل دہلادینے والی سزائیں دی جانے لگیں ۔ آخری پنشن یافتہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر اور ان کے خاندان کے ساتھ کس طرح کا غیر انسانی سلوک اپنایا گیا اور ان کے خاندان کے چراغوں کو کس کس طرح بجھایا گیا اس خونی داستان سے ہماری تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیںاور یہی پُر آشوب عہد سرسید احمد خاں کی عملی زندگی اور فکر ونظر میں انقلاب کا زمانہ ہے۔ واضح ہو کہ سرسید احمد خاں انگریزی حکومت میں ملازم تھے اور انگریزوں سے انہیں قدرے قربت بھی تھی لیکن 1857ء کے بعد جب انگریزوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ نازیبا اور غیر انسانی سلوک شروع کیا تو سرسید کا قوم پرست دل تڑپ اٹھا۔لیکن سرسید ایک دانشور تھے وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے تھے کہ اس وقت انگریزوں کے خلاف سیدھی جنگ شروع نہیں کی جا سکتی کیوں کہ حالیہ جنگ میں ناکامی کے بعد ایک طرف ہندوستانیوں کا حوصلہ پست ہو چکا تھا تو دوسری طرف انگریز اپنی سیاسی چالوں سے ہندوستانیوں کے اتحاد کو بھی پارہ پارہ کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں سرسید احمد جیسے نبّاض دانشور کے سامنے بس ایک ہی راستہ تھا کہ وہ انگریزوں سے اپنے رشتوں کو نہ صرف بر قرار رکھیں بلکہ اسے مزید استحکام بخشیں۔لہذا انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت وبصارت کے سہارے شکست خوردہ مایوس وملول قوم کے لئے ملک میں ایک ایسی فضا تیار کرنے کی سوچی جس سے مسلمانوں اور انگریزوں کے درمیان جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں وہ بھی کم ہو ں اور مسلمانوں کی گھٹن میں بھی کمی واقع ہو۔ انہیں مقاصد کے تحت انہوں نے ’’اسباب بغاوت ہند‘‘ اور ’’تاریخ سرکشی بجنور‘‘ لکھ کر انگریزوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ 1857ء کی بغاوت کے اسباب کیا تھے۔
واضح ہو کہ سرسید ہی کی طرح انگریزی حکومت کے ایک وفادار ہندوستانی مؤرخ غلام حسین طبا طبائی بھی 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے اسباب کی وضاحت اپنی کتاب ’’سیرۃ المتاخرین‘‘ میں کر چکے تھے۔ طبا طبائی نے لکھا تھا کہ:
’’نئے حکمرانو ںکا عوام سے کوئی رابطہ نہیں ہے، انہوں نے ہندوستانیوں کو تجارت سے محروم کر دیا ۔ نئے حکمرانوں نے قدیم حکمرانوں کی فلاحی کاموں کے لئے دی جانے والی جاگیر کا سلسلہ بند کردیا ہے ۔ ہندوستانیوں کو فوج میں ملازمتوں کے حصول کے اب وہ مواقع میسر نہیں ہیں جو ان کو پہلے حاصل تھے۔‘‘ (ص:۸۴)
سرسید ایک ذہین انسان تھے ۔ ان کا سیاسی ، سماجی، مذہبی اور تاریخی شعورکتنا پختہ تھا اس کا بیّن ثبوت ان کی درجنوں تصانیف اور خطبات ومقالات ہیں۔ان سب کی تفصیلات یہاں ممکن نہیں کہ خوف طوالت درپیش ہے ۔اگر چہ ان کی فکر کی جولانیاں ہمیشہ نئی راہ کی تلاش میں رہتی تھیں مگر 1857ء کے بعد انہوں نے اصلاحِ قوم کو ہی اپنا مقصدِ حیات قرار دے کر ایسے ایسے کارنامے انجام دئے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ حالیؔ نے اپنی مشہورِ زمانہ تصنیف ’’حیاتِ جاوید‘‘ کے دیباچے میں ٹھیک ہی لکھا ہے کہ:
’’ اگر چہ ہماری قوم میں بڑے بڑے اولو العزم بادشاہ ،بڑے بڑے دانشمند وزیر اور بڑے بڑے سپہ سالار گزرے ہیں مگر ان کے حالات اس کٹھن منزل میں جو ہم کو اور ہماری نسلوں کو درپیش ہے براہِ راست کچھ رہبری نہیں کر سکتے۔ ہم کو اب دنیا میں محکوم بن کر رہنا ہے اور اس لئے وہ لیاقتیں جو سلطنت اور کشور کشائی کے لئے درکار ہیں ہمارے لئے بے سود ہوگی ۔ البتہ سرسید کی لائف ہمارے لئے ایک ایسی مثال ہے جس کی پیروی سے ممکن ہے کہ ہماری قوم کی یہ کٹھن منزل جو تنگنائے دنیا میں ظاہراً ا س کی سب سے آخری منزل ہے آسانی کے ساتھ طئے ہو جائے‘‘۔
بلا شبہ اگر اس پُر آشوب دور میں سرسید ہماری رہنمائی نہیں کرتے تو شاید ہندوستانی مسلمان پسماندگی کے اس دلدل سے باہر نہیں نکل پاتے جس میں اس وقت پھنسنا ان کا مقدر بن چکاتھا۔ سرسید نے نہ صرف مسلمانوں کی محرومیوں اور بد نصیبیوں کا مداوا تلاش کیا بلکہ ان کے اندر زندگی جینے کا حوصلہ بھی بخشا۔ انہوں نے مسلمانوں کو قومیت کے ایک نئے مفہوم سے آشنا کیا اور اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ اب ہماری ترقی کی واحد کنجی تعلیم ہے اور تعلیم بھی روایتی نہیں بلکہ نئے عہد کے تقاضوں کو پورا کرنے والی تعلیم ہی ہماری تقدیر بدل سکتی ہے ۔ انہو ںنے مسلمانوں کو اس بات کا احساس دلایا کہ برادرِ وطن کی زندگی اگر ہم سے قدرے بہتر ہے تو اس کی واحد وجہ تعلیم ہے ۔سند رہے کہ انہو ںنے ایسا اس لئے کہا کہ وہ راجا رام موہن رائے ، دیانند سرسوتی اور کیشب چند سین جیسے سماجی اور مذہبی رہنمائوں کی اصلاحی تحریکوں کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا تھا اور یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ مسلمانوں کے مقابلے اگر ہمارے برادرِ وطن ترقی کے دور میں آگے نکل گئے ہیں تو اس کی واحد وجہ ان کی تعلیمی بیداری ہے ۔اس لئے سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان اس تعلیم سے آراستہ ہوں جو ان کی زندگی میں انقلاب پیدا کردے ۔ انہو ںنے مقصدِ تعلیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ :
’’اے دوستو !مجھ کو یہ بات کچھ زیادہ خوش کرنے والی نہیں ہے کہ کس مسلمان نے بی۔اے یا ایم۔اے کی ڈگری حاصل کرلی ۔ میری خوشی قوم کو قوم بنانے کی ہے ‘‘۔
اور اسی طرح کا خیال اپنے مضمون ’’رائے در بابِ تعلیم‘‘ میں ظاہر کیا کہ :
’’ہمیشہ تعلیم سے یہ مقصود رہا ہے کہ انسان میں ایک ملکہ اور اس کی عقل اور ذہن میں جودت پیدا ہو ۔ تاکہ جو امور پیش آئے ان کے سمجھنے کی ،برائی ، بھلائی جاننے کی اور عجائب قدرت الٰہی پر فکر کرنے کی اس کو طاقت ہو ۔ اس کے اخلاق درست ہوں ، معاملات معاش کو نہایت صلاحیت سے انجام دے اور امور معاد پر غور کرے‘‘۔(مقالاتِ سرسید)
حیاتِ سرسید کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ 1857ء کے بعد ان کے غوروفکر کا محور ومرکز صرف اصلاحِ قوم اور تعلیم رہا ہے ۔ غازی پور میں مدارس کا قیام، سائنٹفک سوسائٹی کا قیام، علی گڑ ھ میں مدرسہ اور پھر ایم۔اے او کالج کی داغ بیل ، سائنٹفک سوسائٹی گزٹ کی اشاعت ، مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاداور ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کا اجرا وغیرہم کا واحد مقصد قوم کو بیدار کرنا اور انہیں علم وہنر کے نئے مطالب ومفاہیم سے آگاہ کرنا تھا ۔ جیسا کہ خود سرسید نے ایم ۔اے ۔او کالج کے بنیادی مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا :
’’یہ ادارہ مسلمانانِ ہند کی تعلیم ، تہذیب وثقافت اور دانشورانہ قیادت کا مرکز بن جائے۔ یہاں ایسے تربیت یافتہ ذہن تیار ہوں جو آئندہ ملک وقوم کے لئے سرمایۂ فلاح ثابت ہو‘‘۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب سرسید نے اصلاحِ قوم کے لئے عملی اقدامات شروع کئے تو اوروں کی بات تو چھوڑئیے اپنوں نے بھی ان کی کس قدر مخالفت کی ۔ان پر نہ جانے کتنے بے ہودہ الزامات لگائے گئے ۔ کسی نے ان کو انگریزوں کا پٹھّو کہا تو کسی نے دہریہ تک کہہ ڈالا۔ کسی نے ان کے نظریہ تعلیم کو اسلام مخالف قرار دیا تو کسی نے یہ افواہ پھیلائی کہ سرسید انگریزی تعلیم کے ذریعہ دینی تعلیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ حقیقت بالکل بر عکس تھی کہ سرسید شروع تا آخر جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کے بھی علم بردار رہے۔انہوں نے اپنے خطبات ومقالات میں ہمیشہ اس نکتے پر زور دیاکہ مسلمانوں کو ایسی تعلیم حاصل کرنی چاہئے جو دین ودنیا دونوں کے لئے مفید ہو ۔ انہوںنے کہا تھا کہ :
’’پس مسلمانوں پر واجب ہے کہ تعصب کو چھوڑ دیں اور بعد تحقیقات ومباحث کے سلسلہ تعلیم مسلمانوںکا ایسا قائم کریں جو ان کے دین ودنیا دونوں کے لئے مفید ہو‘‘۔ (مقالاتِ سرسید ۔ مرتب شیخ اسماعیل پانی پتی ، لاہور، ۸؍۲۸)
اور دوسری جگہ اس کی وضاحت یوںکی ہے :
’’جو لوگ ہندوستان میں مسلمانوں کی عام تعلیم پر کوشش کرتے ہیں ان کو یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ عام تعلیم کا رواج کسی قوم کے زن ومرد میں بغیر شمولِ تعلیم مذہبی کے نہ ہوا ہے نہ ہوگا اور نہ دنیا میں کوئی ملک اور کوئی قوم ایسی موجود ہے جس میں عام تعلیم کا رواج بلا شمول مذہبی تعلیم کے ہوا ہو۔‘‘(مقالاتِ سرسیدمرتب شیخ اسماعیل پانی پتی ، لاہور، ۸؍۱۰۴)
غرض کہ سرسید ایک کشادہ ذہن انسان تھے اور علوم وفنون حاصل کرنے کے معاملے میں ہر اس زبان سے استفادہ کرنا چاہتے تھے جس زبان میں ان کے مطلب کا علم دستیاب تھا۔ مگر انہوں نے کبھی بھی ہندوستانی زبانوں بالخصوص اردو کو کمتر قرار نہیں دیا بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ اردو زبان ہی ان کا وسیلۂ اظہار تھی۔مولانا شبلی نعمانی نے سرسید کی اردو خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
’’سرسید کے جس قدر کارنامے ہیں اگر چہ رفارمیشن اور اصلاح کی حیثیت ہر جگہ نظر آتی ہے لیکن جو چیز خصوصیت کے ساتھ ان کی اصلاح کی بدولت ذرہ سے آفتاب بن گئیں ان میں ایک اردو لٹریچر بھی ہے۔ سرسید ہی کی بدولت اردو اس قابل ہوئی کہ عشق وعاشقی کے دائرے سے نکل کر ملکی ، سیاسی،اخلاقی ، تاریخی ہر قسم کے مضامین اس زور واثر ، وسعت وجامعیت ، سادگی اور صفائی سے ادا کر سکتی ہے کہ خود اس کے استاد یعنی فارسی زبان کو آج تک یہ بات نصیب نہیں ہوئی۔‘‘(مقالاتِ شبلی)
چندمحدود ذہن اور تنگ نظر لوگ سرسید احمد پر یہ الزام تراشتے ہیں کہ انہو ںنے صرف مسلمانوں کی سماجی اور تعلیمی بدحالی کا رونا رویا ہے اور انہیں کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے جدوجہد کی اور ان کے مخاطب صرف مسلمان رہے ہیں۔جب کہ ان کی تقاریر اور مضامین اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ ان کی فکر ونظر کا محور کبھی بھی صرف مسلمان نہیں رہے ۔ ان کی سانسوں میں اس وقت کا ہندوستان بستا تھا اوروہ اپنے ملک وقوم کی دردناک صورتحال کو دیکھ کر مضطرب تھے اور اس دردمندی نے ان کی تقریروں اور تحریروں میں سوز وگداز بھر دیا تھا ۔ ایک مثال دیکھئے:
’’پس اے میرے پیارے نوجوان ہم وطنو اور میری قوم کے بچو اپنی قوم کی بھلائی پرکوشش کرو تاکہ آخر وقت میں اس بڈھے کی طرح نہ پچھتائو۔ ہمارا زمانہ تو اخیر ہے اب خدا سے یہ دعاء ہے کہ کوئی نوجوان اٹھے اور اپنی قوم کی بھلائی کی کوشش کرے‘‘۔(انتخاب مضامینِ سرسید:ص۔۸۹۔۸۸)
اس اقتباس میں ’’ہم وطنو‘‘اور ’’قوم کے بچو‘‘ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں کہا گیا ہے۔ مگر کیا کیجئے جب ذہن کسی تعصب وتحفظ کا شکا رہو جاتا ہے تو اس کی سوچ کا دائرہ بھی محدود ہو جاتا ہے اور ویسے ہی محدود ذہنیت کے لوگ سرسید جیسے رہنمائے قوم کے افکار واعمال کو شک وشبہ کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں مگر وقت انصاف پسند ہوتا ہے وہ کسی نا انصافی کو کب قبول کرتا ہے ۔ آج ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا کے بڑے سے بڑے دانشور اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ اگر سرسید اس وقت ملک میں تعلیمی وسماجی تحریک کا آغاز نہیں کرتے تو آج ہندوستان تعلیمی شعبے میں سو سال اور پیچھے ہوتا۔
مگر افسوس صد افسوس کہ سرسید نے مسلمانوں کو تعلیم کے جن نکات سے آگاہ کیا تھا ہم اس پر عمل نہیں کر سکے اور نہ سرسید کے مشن کو آگے بڑھا سکے۔ورنہ آج ہندوستانی مسلمانوں کی سماجی، معاشی ، اقتصادی اور تعلیمی تصویر اتنی بھیانک نہیں ہوتی جتنی کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ میں پیش کی گئی ہے ۔اس لئے تقاضائے وقت یہ ہے کہ ہمارے رہنمائے قوم اور دانشورانِ ملت صرف اپنے فکر وخیال کی دنیا ہی آباد نہ کریں بلکہ صدق دل سے فلاحِ قوم کے لئے عملی قدم بھی اٹھائیں کہ آج سرسید علیہ الرحمہ کی روح پسماندگیٔ قوم پر مضطرب ہے۔٭٭

Leave a Comment