غالب اکیڈمی کے47ویں یوم تاسیس کے موقع پر سیمینار کا انعقاد

\"12596273_10207698675378758_918435040_n\"
\"12735607_10207679391016661_499757630_n\"

غالب اکیڈمی کے47ویں یوم تاسیس کے موقع پر غالب اکیڈمی، نئی دہلی میں’’ غالب کی معنویت ‘‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کے دو اجلا سنئی میں 17مقالے پڑھے گئے۔ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر یامین انصاری،ڈاکٹر ممتازعالم رضوی،سفینہ، سہیل انجم،خالد علوی،،پروفیسر سلیل مسرا،پروفیسر شریف حسین قاسمی،پروفیسر نصیر احمد خاں،پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر کوثر مظہری، نریشن ندیم، ابو بکر عباد، ابو ظہیر ربانی ،قاضی افضال حسین،گیتانجلی کالا، ڈاکٹر احمد محفوظ کے اسمائے گرامی شامل ہیں
سیمینار میں مقالہ نگاروں نے غالب کے کلام کی روشنی میں غالب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر شمیم حنفی نے افتتاحی تقریر میں کہا کہ غالب مومن ذوق الگ الگ افراد تھے ان کو الگ طریقے سے دیکھنا چا ہیے۔ میر نظیر غالب اقبال سب اپنے دور کے بڑے شاعر ہیں۔ غالب ایسے شاعر ہیں جن کی عظمت کا اعتراف سبھی حلقوں اور طبقوں میں کیا گیا۔ غالب کے کلام کا عجب معاملہ ہے اس میں وجد اور سکون بھی ملتا ہے، اداسیوں، زخموں سے بھری زندگی غالب نے گزاری دوسری طرف کلام غالب میں زندہ دلی اور شگفتگی ہے۔ غالب کے فارسی کلام کے ترجمے کی بھی تلا ش جا ری ہے۔
پہلے اجلاس کی صدارتی تقریر میں قاضی افضال حسین نے کہا کہ جسے ہم آسان کہتے ہیں وہ کس مشکل سے کہا جاتا ہے اسے شعر کے تجزیے کے بعد میں ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض لوگ غالب کو زمانی اعتبار سے اہمیت دیتے ہیں میرے خیال سے غالب کو معنی کے اعتبار سے دیکھنا چا ہیے، ابو بکر عباد نے غالب غزل اور افسانہ کے عنوان سے اپنے مقالے میں کہا کہ غالب کو افسانوی ادب سے حد درجہ رغبت تھی۔ ممتاز عالم نے اپنے مقالے میں غالب غالب ہے میں غالب کی غزل مدت ہوئی یار کو مہماں کئے ہوئے میں کلام غالب کی معنی آفرینی پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی نے دہر میں نقش وفا وجہ تسلی نہ ہوا پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غالب نے اس غزل میں ایسی تلمیح استعمال کی ہے جو فارسی میں بھی نہیں ملتی۔خالد علوی نے اپنے مقالے میں کہا کہ یگانہ غالب شکن ہوتے ہوئے بھی غالب سے حد درجہ متاثر تھے۔ احمد محفوظ نے امیر خسرو، سعدی کے اشعار سے غالب کی غزل سب کہاں کچھ لال وگل میں نمایاں ہو گئیں کے اشعار کا تقابل پیش کیا۔ آخری اجلاس کی صدارتی تقریر میں پروفیسر جمال حسین نے اپنی تقریر میں کہا کہ کلام غالب معنی کا سر چشمہ ہے۔ ایسا چشمہ جو ہمیشہ جاری رہے گا کبھی خشک نہیں ہوگا۔ متن تخلیق کار کی میراث نہیں ہوا کرتی بلکہ وہ قاری کی میراث ہوتی ہے شرط یہ ہے کہ معنی متن سے بر آمد کئے جائیں یہی وجہ ہے کہ ہر بڑے شاعر کے لیے غالب نا گزیر ہے ۔پہلے اجلاس کی نظامت مسرور فیضی اور آخری اجلاس کی نظامت محمد قمر تبریز نے کی۔

Leave a Comment