پروفیسرشہاب عنایت ملک فیصل آباد یونیورسٹی،پاکستان کے ممبربورڈآف اسٹڈیز اُردونامزد

٭ڈاکٹر محمد راغب دیشمکھ کی رپورٹ
\"shohab
جموں//صدرشعبہ اُردواورڈائریکٹر کشتواڑکیمپس جموں یونیورسٹی پروفیسرشہاب عنایت ملک کوفیصل آبادیونیورسٹی پاکستان کی جانب سے ممبربورڈآف سٹڈیزاِن اُردونامزدکیاگیاہے۔ پروفیسرشہاب عنایت ملک کی نامزدگی کی جانکاری صدرشعبہ اُردوفیصل آبادیونیورسٹی پاکستان پروفیسرآصف نے بذریعہ فون ،صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کودیتے ہوئے بتایاکہ آپ کو وائس چانسلر فیصل آبادیونیورسٹی نے یونیورسٹی ہذاکاممبربورڈآف سٹڈیزاِن اُردونامزدکیاہے اوراس کے ساتھ ہی آپ یونیورسٹی کے پی۔ایچ۔ ڈی تھیسس کیلئے ایکسٹرنل ایکسپرٹ کے طورپرخدمات انجام دیں گے۔ پروفیسرموصوف اس وقت صدرشعبہ اُردواور کشتواڑکیمپس جموں یونیورسٹی میں بطورڈائریکٹر، کنوینربورڈآف سٹڈیزاِن اُردو،ممبربورڈ آف سٹڈیزاِن اُردوپنجاب یونیورسٹی چندی گڑھ،ممبربورڈآف سٹڈیزاِن اُردوکشمیریونیورسٹی ، ممبربورڈآف ریسرچ سٹڈیزچودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پروفیسرشہاب عنایت ملک ہندوستان کی مختلف سرکاری تنظیموں سے وابستہ ہیں۔ نیشنل کونسل برائے فرو غ اُردوزبان کی مختلف کمیٹیوں میں بھی پروفیسرشہاب عنایت ملک کانام شامل ہے۔پروفیسرشہاب عنایت ملک اُردودوستی کیلئے جانے جاتے ہیں اورمعروف اُردوقلمکار کے حیثیت سے مختلف اخبارات کیلئے سماجی ،سیاسی اورثقافتی مسائل پرآئے دن تحریرکرتے رہتے ہیں ۔اب تک پروفیسرموصوف کی 15 سے زائدکتابیں شائع ہوچکی ہیں۔مختلف اُردوتنظیموں نے پروفیسرشہاب عنایت ملک کواُردوکی ترویج کیلئے گراں قدرخدمات انجام دینے کے عوض اعزازات سے بھی نوازاہے ۔اس کے علاوہ پروفیسرشہاب عنایت ملک آل انڈیایونیورسٹی اُردوٹیچرزایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری اورایفروایشین رائٹرزایسوسی ایشن مصرکے ریاستی سیکریٹری ، شعبہ اُردوکے ششماہی مجلہ ’’تسلسل ‘‘کے مدیراعلیٰ بھی ہیں اوراب تک مذکورہ مجلہ کے خصوصی نمبرات کی ایڈیٹنگ کرچکے ہیں۔موصوف کی نئی کتاب بعنوان ’’ وادی چناب میں اُردوزبان وادب ‘‘ بہت جلد منظرعا م پرآنے والی ہے۔مختلف ادبی اورثقافتی تنظیموں جن میں جموں کشمیراُردوفورم، انجمن ِ ترقی اُردوہند جموں، ادبی کنج جموں، انجمنِ فروغ اُردوجموں اور فنکارکلچرل آرگنائزیشن کشمیرشامل ہیں نے پروفیسرشہاب عنایت ملک کوممبربورڈآف سٹڈیزاِن اُردوفیصل آبادیونیورسٹی پاکستان نامزدہونے پر مبارکبادپیش کی ہے۔

Leave a Comment