رئیس احمد صمدانی کی کالم نگاری ان کی تصنیف’کالم نگری‘ کی روشنی میں

تحریر: افضل رضوی۔ آسٹریلیا
\"\"
پروفیسرڈاکٹر رئیس احمد صمدانی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں، انہوں نے سوانح نگاری ، خاکہ نگاری ، کالم نگاری کے ساتھ ساتھ دوسری اصنافِ ادب میں بھی اپنے قلم کے جو ہر دکھائے ہیں؛ جن میںشعر وسخن، رپور تاژ، تبصرے، سفر نامہ نگاری اور کالم نگاری خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔کالم نگاری کا ادب اور صحافت سے بہت گہرا تعلق ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کالم نگاری بیک وقت صحافت و ادب بھی ہے اور شاعری بھی، کالم نگاری داستاں گوئی بھی ہے اورچونکہ کالم نگاری کا تعلق براہِ راست معاشرے سے جڑتا ہے اور ادب معاشرے کا عکس ہوتا ہے، صحافت اسی عکس کا پرتو بن کر افرادِمعاشرہ کی تعلیم وتربیت میں اہم کردار اداکرتی ہے۔ اب جہاں تک اردو میں کالم نگاری کی ابتداء کا سوال ہے تو اس کا باضابطہ آغاز منشی سجاد حسین کے اخبار’ ’اودھ پنچ‘ ‘سے ہوتا نظر آتا ہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد ،مولانا ظفر علی خان،محمد علی جوہر، عبدالمجید سالک ،چراغ حسن حسرت ،شوکت تھانوی ، مرزا فرحت اللہ بیگ، احمد شاہ بخاری پطرس اور رشید احمد صدیقی ،سعادت حسن منٹو نے بھی کالم نگاری کے فن کو جلا بخشی جب کہ اگلی صدی سے دورِ موجود میں اس صنف ادب و صحافت کا بہت بڑا نام مشفق خواجہ کا ہے۔دورِ جدید کے اہم کالم نگاروں میںانتظار حسین، احمد ندیم قاسمی،میرزا ادیب،جمیل الدین عالی،انور سدید،حفیظ الرحمن ،منو بھائی، عطاء الحق قاسمی، بشریٰ رحمان ،اختر امان، انجم اعظمی، انجم رومانی، محسن بھوپالی ،مجتبیٰ حسین، نصرت جاوید، سلیم صافی، حامد میر اور پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔
ڈاکٹر صمدانی جس تواتر کے ساتھ لکھ رہے ہیں ، اسے دیکھ کر تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کالم لکھنے کی مشین ہیں۔ ان کے کالم کسی ایک موضوع کے گرد طواف نہیں کرتے کیونکہ وہ خود کسی ایک مقام پر منجمد شخصیت نہیں چنانچہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا عکس ان کی تحریروں میں جھلکتا نظر آتاہے ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کی زندگی کا ایک بڑا حصہ اردو زبان و ادب کی خدمت میں گزرا ہے اور انہیں اردو زبان کے نفاذ کے لیے جس پلیٹ فارم پر بھی موقع میسر آتاہے وہ اس کے لیے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں اردو کی معروف ویب سائیٹ ’’ہماری ویب‘‘ کے ادارے ’’ہماری ویب رائیٹرز کلب‘‘ کی صدارت بھی قبول کررکھی ہے۔ میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بھی ایک کالم ان کے کالموں کے مجموعے ’’رشحاتِ قلم‘‘ کا حصہ ہے۔اس موضوع پر اپنے کالم ’’ الیکٹرونک میڈیا اور شتر بے مہار آزادی‘‘ میں انہوں نے انتہائی دیانتداری سے سماج میں پھیلائی جانے والی عریانی وفحاشی پر سخت الفاظ میں اظہارِ خیال کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ معاملہ واقعی ایسے ہی سخت الفاظ سے بیان کیے جانے کا متقاضی ہے۔
ان کے کالموں کا دوسرا مجموعہ ’’کالم نگری ‘‘ کے عنوان سے منصہ شہودپر آچکاہے۔ اس مجموعے میں پروفیسرڈاکٹررئیس احمد صمدانی نے کل بتیس کالم شامل کیے ہیں۔ ڈاکٹر صمدانی کے کالموں کے پہلے مجموعے (رشحاتِ قلم ) کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ وہ اپنے آپ کو کسی ایک موضوع تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اپنے ہمہ جہت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بیک وقت کئی موضوعات پر لکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔چنانچہ ان کے کالموں کے اس مجموعے میں جہاں ادبی کالم ہیں وہیں انہوں نے سیاسیاتِ حاضرہ پر بھی بھرپور لکھا ہے۔چنانچہ ا ن کی ’’کالم نگری‘‘ کے مطالعہ کے بعد اس میں شامل کالموں کو درج ذیل چار موضوعات میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
الف)اردو زبان وادب، معاشرت اور صحافت
ب)ملکی سیاست اور حالاتِ حاضرہ
ج)بین الاقوامی حالات و واقعات
د)سیاسی وفوجی شخصیات
سب سے پہلاکالم ’’الوداع2019 ء مرحبا 2020ء‘‘کے عنوان سے لکھا گیا ہے جس میں انہوں نے مملکتِ خدادا کے قیام کے مقصد اور اس میں ہونے والی تقاریب کو انگریزی کیلنڈر کے مطابق پلان کیا جاتا ہے۔انہوں نے درست لکھا ہے کہ ’’ پاکستان قائم تو ہوا اسلام کے نام پر لیکن بہت سے معاملات میں اسلامی تعلیمات پر عمل نہیں ہوتا ان میں سے ایک ماہ و سال بھی ہیں۔ یہاں انگریزی مہینوں اور تاریخوں کے مطابق زندگی کے معاملات پرعمل ہوتا ہے۔ بمشکل تمام جمعہ کی چھٹی بھٹو صاحب نے کردی تھی لیکن حکومتوں نے کچھ اور تو نہ کیا اس اسلامی کام کو دوبارہ جمعہ کے بجائے اتوار مقرر کردیا ‘‘۔یہ کالم قدرے طویل ہے اور کالم سے ایک ادبی، معلوماتی اورتنقیدی مضمون کی شکل اختیار کر گیا ہے۔اس کالم میں انہوں نے سال 2019ء میں وقوع پذیر ہونے والے سیاسی ومعاشرتی واقعات وسانحات کو انتہائی مدبرانہ طریق سے سمیٹ دیا ہے۔اسی طرح ’’آزادی ٔصحافت کا عالمی دن ۔ ۳۰ مئی‘‘میں انہوںصحٖا فت کی اہمیت اور افادیت واضح کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ آزاد میڈیا کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون ہو تا ہے ، دیگر تین ستون انتظانیہ ،مقننہ اور عدلیہ ہیں۔صحافت سے معاشرت کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے صمدانی صاحب نے ’’روشن کراچی ۔کچرا کراچی‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے گویا ہر خاص و عام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔
پروفیسر صمدانی اگرچہ اپنی ذاتی لائبریری عطیہ کرچکے تاہم کچھ کتابیں اب بھی ان کی ذاتی دسترس میں ہیں تو ایسا شخص جسے کتابوں میں زندگی کی رمق نظر آتی ہو کیسے ممکن ہے کہ کتابوں کا میلہ سجے اور اس کے قلم سے لفظ نہ نکلیں۔چنانچہ’’کالم نگری‘‘ کا دوسرا کالم’’کراچی میں15 واںعالمی کتاب میلہ 2019ء‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا گیا ہے، کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار’’کراچی میں اردو کے پروانوں کا میلہ۔ باھویں عالمی اردو کانفرنس2019‘‘ میںکیا گیاہے۔
’ملکی سیاست اور حالاتِ حاضرہ ‘‘ پر لکھے کالموں میں ’ بُحرانوں میں گری حکومت ‘،’اس وادی پر خوں سے اٹھے گا دھواں کب تک‘،
’ مقبوضہ کشمیرپرمودی کا غیرقانونی وار‘،’’پاکستان کا جوابی اقدام‘، ’خفیہ باغی سینیٹر ز کی تلاش ‘، ’پاکستانی سیاست اور مہنگائی کا جن‘، اختتامی مراحل میں‘،بجٹ 2019-20 قومی اسمبلی سے منظور‘،’اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت کشمیر ریلی ‘،’حزب اختلاف کی اے پی سی ۔ بلاول کا دلیرانہ
کردار‘اور’میثاق معیشت ۔ وقت کی ضرورت‘ ، ایسے کالم ہیں جو اہلِ اقتدار اور عوام کے لیے سوچ وفکر کے کئی در وا کرتے ہیں۔
اندرونِ خانہ سیاست اور معاشرتی مسائل سے ذرا آگے بڑھ کرڈاکٹر صمدانی کی دوربین نگاہیں عالمی منظر پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں سے بھی بخوبی آگہی رکھتے ہیں، اس ضمن میں ان کے لکھے گئے کالم بعنوان’عالمی فورم پر وزیر اعظم عمران خان کا شاندار خطاب‘،’کیا چین ہمارے لیے کافی ہے؟کشمیرکے تناظر میں‘،’مودی کااسلامی ممالک کا دورہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی سیاہ کاریاں چھپانے کی چال‘، ’نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ‘ بھارت کی بدلتی پالیسی‘،’سلامتی کونسل کا اجلاس ‘کیا ہونے والا ہے‘،’ڈونالڈ ٹرمپ اور عمران خان آمنے سامنے‘،’وزیر اعظم پاکستان عمران خان امریکہ میں‘،’عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ۔ بھارت کے لیے ایک اور 27فروری‘،’ایران امریکہ تنازع اور پاکستان ‘،’ڈاکٹرمحمد مرسی۔ استقامت کی علامت‘، ’بچوں کا عالمی دن 20 نومبر:بچے ہمارا مستقبل‘پڑھنے کے قابل ہیں۔
پاکستان کی تین معتبر ترین عالمی سطح پر اپنا مقام رکھنے والی شخصیات پر بھی ان کے قلم سے ادبی اور تاریخی جملے نکلے ہیں۔ اس سلسلے میں؛ ’قائدا عظم محمد علی جناح کا سیاسی تدبر اور اصول پسندی‘، ’پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان ۔ یوم شہادت ‘ اور’’بھٹو ‘ تاریخ میں ہمیشہ امر رہے گا‘ نیز پاکستان کی مسلح افواج کے موجودہ سربراہ ،’سپہ سالار کی خدمات کا تسلسل جاری رکھنے کا فیصلہ‘شامل ہیں۔
المختصر یہ کہ پروفیسر صمدانی نے نثر کے جس گوشے پر بھی طبع آزمائی کی ہے ، ان میں معیار اور مقدار دونوں فنی پیمانے سے گرنے نہیں پائے۔میری دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کے علم وحلم میں اضافہ فرمائے اور انہیں صحت مند وتوانا زندگی عطا فرمائے تا کہ ان کا قلم یونہی اردو زبان وادب اورصحافت ومعاشرت کی خدمت میں مشغول رہے۔آمین۔

Leave a Comment