ڈاکٹرشہنازقادری کی مرتب کردہ کتاب ”بنامِ تقی عابدی “کااجراء

\"26904251_172262180202535_4893970070307289981_n\"
جموں(اسٹاف رپورٹر)شعبہ اُردوجموں یونیورسٹی کے زیراہتمام منعقدہ ایک تقریب میں وائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرآرڈی شرمانے ”بنام ِ تقی عابدی “کتاب کااجراءکیا۔ تقریب میں ادباء،شعرا،طلباءاوراسکالرزومعززشہریوں کی کثیرتعدادنے شرکت کی۔ ”بنامِ تقی عابدی“کتاب کنیڈاسے تعلق رکھنے والے اُردوکے قدآوار محقق واسکالرکومشاہیرادب کی طرف سے لکھے گئے خطوط پرمبنی ہے جسے اسسٹنٹ پروفیسر ایم اے ایم کالج ڈاکٹرشہنازقادری نے مرتب کیاہے ۔اس دوران کتاب کی رونمائی تقریب کی صدارت نامورافسانہ نگار خالدحسین نے کی جبکہ ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسرکیدارناتھ مہمان ذی وقارتھے ۔اس موقعہ پر شعبہ اُردوکے اعزازی پروفیسرڈاکٹرتقی عابدی بھی موجودتھے۔اس موقعہ پربولتے ہوئے وائس چانسلرجموں یونیورسٹی پروفیسرآرڈی شرمانے ڈاکٹرشہنازقادری کو اہم موضوع پرکتاب مرتب کرنے کےلئے مبارکبادپیش کی۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرشہنازقادری اُبھرتی ہوئی اُردوادیبہ ہیں اوراس سے پہلے ان کی چارکتابیں منظرعام پرآچکی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ نئی کتاب میں بھی ڈاکٹرشہنازقادری نے ڈاکٹرتقی عابدی کی تحریروں کے معیار اوربرصغیرکے ساتھ ساتھ یورپ میںاُردوادب کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جانکاری فراہم کی ہوگی۔انہوں نے مزیدکہاکہ کتاب میں مشاہیرادب کی جانب سے ڈاکٹرتقی عابدی کولکھے گئے خطوط شامل کیے گئے ہیں جوکہ اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے شعبہ اُردوکی اُردوکی ترقی کےلئے کاوشوں کوبھی سراہا۔ انہوں نے حکومت کااُردوکونسل قائم کرنے کے اعلان کابھی خیرمقدم کیا۔پروفیسرآرڈی شرمانے ڈاکٹرتقی عابدی جوحال ہی میں جموں یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسرتعینات ہوئے ہیں کی سال میں دومرتبہ یہاں آکراُردوطلباءواسکالرس کی رہنمائی کریں گے کی اُردوادب کےلئے انجام دی جارہی خدمات کوبھی ناقابل فراموش قراردیا۔ انہوں نے امیدظاہرکی کہ ڈاکٹرتقی عابدی کے لیکچروں سے اُردوطلباءواسکالرس مستفیدہوں گے۔پروفیسرکیدارناتھ نے بھی ڈاکٹر شہنازقادری کواہم موضوع پرکتاب مرتب کرنے کےلئے مبارکبادپیش کی۔ اُنہوں نے کہاکہ میری ملاقات ڈاکٹرشہنازقادری سے ایک ریفریشرکورس میں ہوئی جس کے بعدمجھے علم ہواکہ موصوفہ نہ صرف اُردوکی ماہرہیں بلکہ دیگرزبانوں پربھی عبوررکھتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ خطوط کلچراورتہذیب اورماضی کے بارے میں جانکاری دینے کےلئے خزانے کی حیثیت رکھتے ہیں۔
خالدحسین نے اپنے خطاب میں اُردوخطوط کے آغازوارتقاءکے بارے میں تفصیلی خیالات کااظہارکیا۔ انہوں نے مشاہیرِ ادب مثلاً غالب، سرسیداحمدخان وغیرہ کے خطوط کی اہمیت کے بارے میں جانکاری دی۔ انہوں نے کہاکہ خطوط قدیم تہذیب کی مکمل عکاسی کرتے ہیں ۔خالدحسین نے کہاکہ ڈاکٹرتقی عابدی کومعاصراُردوادباءمیں سے ایک عظیم ادبی شخصیت ہیں جویورپ میں اُردوکی ترقی کےلئے ناقابل فراموش خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ڈاکٹرتقی عابدی 60کتابوں کے مصنف ہیں اورغالب،میر،اقبال ،حالی وغیرہ کی شاعری پردسترس رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ڈاکٹرتقی عابدی متعددقومی اوربین الاقوامی مشاعروں ،سیمیناروں اورکانفرنسوں میں بھی شرکت کرکے مقالات پیش کرچکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرشہنازقادری کی طرف سے مرتب کردہ کتاب 311صفحات پرمشتمل کتاب ہیں اوراسے شاہدپبلی کیشن دریاگنج دہلی نے شائع کیاہے۔مرتب نے کتاب کاانتساب اپنے شوہرپروفیسرشہاب عنایت ملک کے نام کیاہے جسے انھوں نے تحریک کاذریعہ قراردیاہے۔بعدازاں ڈاکٹرتقی عابدی نے ”موجودہ دورمیں گلزارکی شاعری کی اہمیت ومعنویت “کے موضوع پر پرمغزلیکچرپیش کیا۔انہوں نے کہاکہ گلزاراُردوزبان کے ایک قدآورشاعرہیں ۔انہوں نے گلزارکی شاعری کی مختلف جہتوں کے بارے میں بھی شرکاءکوجانکاری دی ۔اس دوران سوالات جوابات کاسیشن بھی منعقدہواجن کاتقی عابدی نے خوش اسلوبی سے جوابات دیئے۔قبل ازیں استقبالیہ خطبے میں صدرشعبہ اُردوجموں یونیورسٹی پروفیسرشہاب عنایت ملک نے خطوط کی اہمیت اورجموں وکشمیرمیں اُردوکی موجودہ صورتحال پرخیالات کااظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ فلمی دنیاکے نامورشاعر گلزار نے اپریل مہینے میں جموں یونیورسٹی کادورہ کرنے کی منظوری دی ہے ۔انہوں نے کہاکہ گلزار شعبہ اُردوکے طلبائ،اسکالرس اور معززین کے ساتھ اپنے خیالات کاتبادلہ کریں گے اوراس سلسلے میں انتظامات کئے جارہے ہیں۔اس دوران تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹرریاض احمد نے انجام دیئے جبکہ شکریہ کی تحریک ڈاکٹرچمن لال نے پیش کی۔اس موقعہ پر ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس اورڈاکٹرفرحت شمیم ودیگرفیکلٹی ممبران بھی موجودتھے۔
\"26907586_172261830202570_4938540588255047547_n\" \"26734244_172261910202562_583969560507484552_n\" \"26908060_172262053535881_2625096897365664036_n\" \"26994081_172261876869232_3755375448870969084_n\"

Leave a Comment