صوفی ازم اور ہمارامعاشرہ

\"\"
٭عشرت معین سیمابرلن ،جرمنی ۔

یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ مذہب اور معاشرہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوکرہی انسانی زندگی میں تبدیلی لاتے ہیں۔چاہے یہ تبدیلی کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھے اور چاہے وہ کوئی بھی انسانی مذہب ہو ۔ کیونکہ ہر مذہب کی بنیاد انسانیت پر ہی روا رکھی جاتی ہے،جب معاشرہ انسانیت کے سبق سے آشنا ہوگا تو معاشرے میں مذہب کا وقار اور انسانیت کا پرچار عام ہوکر ہر شخص کی زندگی کو بہتری کی جانب لے جائے گا۔ سیاسی سطح پر بھی مذہب معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ضامن ہوتا ہے لیکن یاد رہے مذہب کے زمرے میں معاشرے میں بسنے والے ہر فرد کی شخصی آزادی اور احترام اس کا بنیادی امر ہے ورنہ مذہب کے ساتھ ساتھ معاشرہ بھی انتہا پسندی کی راہ پر گامزن ہوکر اپنا توازن بگاڑ سکتا ہے۔
انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انسان ظلم و زیادتی اور ناانصافی کا راستہ اسی وقت اختیار کرتا ہے جب اس کا ماحول اسے وہ تمام راستے دکھاتا ہے جہاں خود غرضی اور لالچ کے ساتھ ساتھ اپنی خوشی و راحت سے سجی اور عیش و تعیش سے بھر پور آسان زندگی دکھائی دیتی ہے۔جہاں وہ وہ اپنے جیسے کسی بھی انسان اور ذی روح مخلوق کو اپنے زیر لانے کے لیے ہر انتہائی قدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتا۔خود کو دنیا میں معتبر اور طاقتور ثابت کرنے کے لیے زر و دولت کا حصول اور زمین و جائدادپر قبضہ کرنے کی ہر ممکنہ زریعے کو اپناتا ہے چاہے وہ ملکی سطح پر جنگ و جدل ہو یا انفرادی سطح پر کسی فرد یا شئے کا استحصال اور غلط استعمال۔
صوفی ازم دراصل درحقیقت مذاہب کے مابین ایک ایسا پُل ہے جو دنیا کے ہر معاشرے میں امن و سکون کا پیعامبر ہے۔ مذہبِ اسلام چونکہ دنیا کے بڑے مذاہب میں شامل ہے اس لیے صوفی ازم کی پختہ شکل ہمیں اسی مذہب کے پیروکاروں میں نظر آتی ہے۔ بہت سے لوگ صوفی ازم کو مذہب کی گروہ بندی میں بھی شامل کرتے ہیں جبکہ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اگرچہ صوفی ازم کی ابتدا ء دنیا میں مذاہب کے ساتھ ساتھ ہی شروع ہوئی ہے کیونکہ صوفی ازم درحقیقت خدا سے محبت کا ابتدائی معاملہ ہے جو مختلف ممالک کی ثقافتی قدروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ لیکن باقائدہ صوفی ازم کے پنپنے کے شواہد ترکی سر زمین ہی سے ملے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک اور ایران و برصغیر ہند و پاک اس کے اہم مراکز ہیں۔ ہندوستان کی قدیم تہذیب میں اس کے آثار کئی سادھوؤں کے جنگل میں تیاگ لینے یا افریقہ و یورپ کے ادب و تاریخ میں دنیا سے کٹ کر صحراؤں و بیابانوں میں اپنی ذات میں گم ہوجانے والے کئی کردار ہمیں وہاں کی کہانیوں میں ملتے ہیں۔ لیکن مذہبِ اسلام دین اور دنیا کو ساتھ لے کر خدا کی تلاش کا حکم دیتا ہے اور صوفی ازم کی بھی بنیادی شرط یہی ہے کہ اس دنیا کے باسیوں کے ساتھ رہتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کئے جائیں اور ساتھ ہی ساتھ رب کی وحدانیت کا پرچار کرتے ہوئے مادیت سے بھی اجتناب کیا جائے ۔
اسلام کی بنیاد تزکیہ نفس پر ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو زندگی میں سلامتی اور اطمنان و سکون کا درس دیا ہے۔ اس سلامتی کو قائم رکھنے کے لیے انسان کو اپنی ذات اور کائنات کے راز جاننے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس ترغیب کا راستہ جہد سے ہوکر گزرتا ہے۔ یعنی اپنی ذات کی تسخیر کے ساتھ ساتھ دانائی و سچائی کی تلاش کرنے کے لیے محنت و کوشش کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس کوشش کو اسٹریس اور ہنگام میں بدلے بغیر سکون و اطمنان کی راہ پر چلتے ہوئے تلاش کرنا ہی صوفی ازم ہے۔ قران میں بار بار متقی ہونے کا فرمان ہے اور متقی ہونے یا تقویٰ کو پانے کے لیے اپنے تزکیہ نفس کی جانچ پڑتال بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں قران ہمارا بہترین راہ نما ہے۔انسان کو سیکھنے اور معلومات پانے کے عمل کی آیڈیالوجی ایک خاص مقصد حیات پانے کی طرف لے جاتی ہے جب کہ اس راستے سے دوری مقصدیت کی راہ میں رکاوٹ بن کر فلسفہ حیات پانے سے دور لے جاتی ہے۔
صوفی ازم انسانوں کو متحد ہونے کا پیغام دیتا ہے۔وقت و زمانے کی رفتار سے بے پرواہ ہوکر قدرت میں گم ہوجانا صوفی ازم نہیں بلکہ وقت اور زمانے کے ساتھ ساتھ قدرت کے اصول و ضوابط کی پابندی کرنا ، اپنی ذات کو پہچانتے ہوئے اور اپنے کُل کی طاقت کا اعتراف کرتے ہوئے توکل اللہ کرنا ہی صوفی ازم کا بھید ہے۔ مثال کے طور پر اپنے خدا سے محبت میں اُس کی ہر تخلیق سے پیار کرنااگر ہم سیکھ جائیں تو پانی کے ایک قطرے کا بھی زیاں نہ کریں، زمیں و آسمان میں بسنے والی اُ س کی ہر مخلوق کی حفاظت اُسی طرح کریں جس طرح ہم اپنی کرتے ہیں،کائنات ،انسان اور اُس کی زندگی کو کبھی نقصان نہ پہنچائیں۔ اپنی ذات کو آسائش و آرام پہنچانے کانام انسانیت نہیں ہے۔ بلکہ اپنی ذات کو ایک ایسی سواری بنانا درحقیقت صوفی ازم ہے کہ جس پر سوار ہوکر آپ خدا تک پہنچیں ۔ اپنی ذات کی نفی کر کے ہی خدا کی تلاش کا پہلا قدم اُٹھا جاسکتا ہے۔ ایک صوفی ایک طرح سے زندگی کے راستوں کا راہبر ہوتا ہے وہ اُن تمام راستوں کو جانتا ہے جو خدا تک پہنچتے ہیں۔ صوفی اپنا پرچار کبھی نہیں کرتا۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں زندگی کے گورکھ دھندوں میں ہی کے زریعے خدا کی قربت کا راستہ تراشتا ہے۔ اُس کے کام کی ابتدا ء پہلے اپنی ذات کی پہچان اور تسخیر سے ہوتی ہے اس کے بعد وہ انسانیت اور محبت کے راستے ہموار کرتا ہے۔
مذہبی تعصب، فرقہ بندی اور صوفیائے کرام کا شیوہ کبھی نہیں رہی۔ آج بھی دنیا بھر کے صوفیائے کرام اللہ کی زمین پر امن پھیلانے کے لیے سر گرمِ عمل ہیں۔ اس دنیا سے امن و سکون کی توقع رکھنے کے لیے آج ہمیں صوفی ازم کے بنیادی اصولوں پر چلنے کی جتنی ضرورت ہے پہلے کبھی اتنی نہیں تھی۔ ہرانسان کی زندگی میں امن و سکون اس کے داخلی اور خارجی عوامل سے وابستہ ہے جب تک ہم اپنے داخلی معاملات اور خارجی معاملات میں توازن نہیں لائیں گے اور جب تک اپنے خالق اور اس کی تخلیق سے محبت کا حق ادا نہیں کریں گے تب تک یہ دنیا بے چینی اور عدم توازن کا شکار رہے گی۔ آج کے صوفی ازم کی پکار بقول شاعر ہے کہ
مجھے زندہ نہیں رہنا کتابوں میں نصابوں میں
صدائے وقت ہوں انسان کو بیدار کرنا ہے

Leave a Comment