طنز و مزاح کا شاعراسرارؔ جامعی

\"\"
٭صالحہ صدیقی

(جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی)
Email: salehasiddiquin@gmail.com
\"\"

شاعری ایک خدادا صلاحیت ہے ،شاعر ہر لفظ کو اپنے خون جگر سے سینچتا ہے ،اپنی زندگی کے تجربات کو اس میں سموتا ہے ،شاعری کی دُنیا لامحدود ہے؛ حیات و کائنات کے سارے خارجی و باطنی، محسوس و غیر محسوس، اجتماعی و انفرادی مسائل کو شاعری کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ شاعری میں افراد کی نفسیات کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے اور اجتماعیت کے تمام مسائل کا حل بھی پیش کیا جاتا ہے۔ مذہب، تمدن، تہذیب و ثقافت، اخلاق، معاشرت اور سیاست موضوع ِ فن بنتے ہے۔یہی وجہ ہے کہ ادب کی شریعت میں کوئی ایک موضوع خاص اہمیت نہیں رکھتا بلکہ ہر موضوع اپنی انفرادی حیثیت رکھتا ہے، شاعر سماج کا ایک حساس فرد ہوتا ہے جسے اپنے گردو نواح میں معمولی سی معمولی تبدیلی کا بھی پتا چلتا ہے جو اُس کے احساسات، جذبات اور خیالات کو متحرک کرتی ہیں،جس کا اظہار وہ پھر اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کو برائے کار لاکر اپنی تحریر سے کرتا ہے تب کہیں شاعری وجود میںآتی ہیں۔ایسا ہی ایک طنز و مزاح کا شاعر جو اس دنیا سے رخصت ہو چکا ہیں ۔لیکن اردو داں طبقہ انھیں ہمیشہ یاد کرتا رہے گا۔ان کے الفاظ ہمیشہ اب یادوں کا حصہ ہونگے ۔
طویل علالت کے بعد طنز و مزاح کے معر وف شاعر اسرار جامعی نے اس دنیا کو الوداع کہہ دیا ۔ان کی عمر تقریبا نوے برس تھی ۔یہ بڑا المیہ رہا کہ اس سے پہلے بھی ان کے موت کی جھوٹی خبر اڑائی گئی لیکن اس مرتبہ یہ خبر سچ ہیں ۔وہ پچھلے کئی ماہ سے وہ جامعہ نگر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔وہ بہار میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم جامعہ ملیہ اسلامیہ میں حاصل کی ،اس کے بعد رانچی کالج سے بی ایس سی اور برلا کالج آف ٹکنالوجی سے انجینئر نگ کی ڈگری لی ۔انھوں نے اپنے قلندرانہ مزاج کے سبب کسی ایک جگہ مستقل نوکری نہیں کی بلکہ آزادانہ کام کیا ۔یہی وجہ تھی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے وطن میں ’’اقبال اکیڈمی ‘‘ قائم کی اور اسی کے تحت علمی و ادبی سرگرمیوں میں مبتلا رہے۔یہی سے ان کی شاعری کی بھی ابتدا ہوئی ۔انھوں نے واہی کی شاگردی اختیا ر کی تھی ۔مزاج میں شوخی و ظرافت کے سبب ان کا رحجان صنف طنز و مزاح میں دست آزمائی کی اور اردو کی مزاحیہ شاعری میں اہم رول ادا کیا اور نمایاں خدمات انجام دیں ۔ان کا شعری مجموعہ ’’شاعر اعظم ‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر بھی آیا ۔لیکن افسوس کہ ان کے کلام کا بڑا ذخیرہ شائع نہ ہو سکا ۔وہ ہمیشہ اپنے کلام کو چھوٹی چھوٹی پرچیوں پر شائع کرا کرہاتھ میں لیے رہتے کسی بھی ادبی پروگرام میں جھکے ہوئے کاندھے پر جھولا لٹکائے ،سر پر ٹوپی ،ہاتھ میں چھڑی اور آنکھوں پر موٹا چشمہ ناک پر تھامے ہوئے بڑی ہی آس بھری نظروں سے اسکالرس کو دیکھتے جو بھی ان سے خیر خیریت پوچھتا یا نہ بھی پوچھتا وہ ایک پرچی اسے تھما دیتے۔اور اپنی شاعری اور خدمات کا مختصر تعارف دے دیتے ۔یہ بھی بڑے افسوس کا مرحلہ رہا کہ ان کی شاعرانہ قد وقامت ،ان کی قابلیت کا اعتراف بڑے بڑے ناقدین نے کیا اور ان کی شاعرانہ برتری بھی تسلیم کیا لیکن ان کو وہ عزت و مقام حاصل نہیں ہو سکا جس کے وہ مستحق تھے ۔اس معاملہ میں وہ بڑے بدنصیب نکلے ۔ان کی طبیعت نہایت سادہ تھی وہ ہر طرح کی سیاست ،ہوشیاری و چالاکی سے کوسوں دور رہتے تھے ۔وہ ہمیشہ ادبی گروہ بندیوں سے دور رہے ۔انھوں نے ہمیشہ اپنے اصولوں و اقدار پر زندگی بسر کی،مسائل کا سامنا کیا ،مصائب برداشت کیے لیکن کسی کے سامنے سر نہیں جھکایا ۔اس بات کا احساس انھیں خودبھی تھاکہ ان کی معصومیت اور سیدھا مزاجی کو بیوقوفیت کے ترازو میں تولتے ہیں، ان کی پرچی جو میرے پاس محفوظ رہ گئی ان کے یہ اشعار جو ’’بھائی چارہ ‘‘ کے عنوان سے ہے مجھے یاد آتے ہیں کہ :
کیا پتے کی بات کہہ دی جامعی اسرار نے
کیوں سمجھتے آرہے ہیں لوگ بے چارا ہمیں
بھائی چارے کا یہ مطلب اب نہ ہونا چاہیے
ہم تو ان کو بھائی سمجھیں اور وہ چارہ ہمیں
لیکن انھوں نے اردو میں ہونے والی سیاست اور اردوزبان میں پردے کی پیچھے کی حقائق،اور نقادوں پرقلم فرسائی کرنے سے پیچھے نہیں رہے۔ ان کی نظم ’’پوسٹ پارٹم ‘‘ دیکھیے:
نقاد چی و ناقد و نقاد تین یار
تینوں کے تینوں کرتے ہیں فنکار کا شکار
نقاد چی کاکام فقط ڈینگ مارنا
اور ہوٹلوں میں بیٹھ کر شیخی بگھارنا
ناقد کا شغل اپنی انا کو لتھاڑنا
غالب بھی سامنے ہو تو اس کو پچھاڑنا
قصاب ہیں یہ تینوں مدارج ہیں بیش و کم
فن پاروں کا ہی کرتے ہیں سب پوسٹ مارٹم
ماحول ادب جس سے تعفن زدہ ہوا
قاری بھی چیختا ہے بچالے مرا خدا
اس کے علاوہ اور بھی کرتے یہ غضب
کہہ دیں مزاح و طنز کو یہ تیسرا ادب
جہاں تک بات ان کی شاعری کے فنی اوصاف کی ہے تو ان کی شاعری دکھی دلوں کا ساتھی ،مجروح جذبات کا مونس و غمخوار ہی نہیں بلکہ قوم کے درد دسے آشنا بھی اور مداوا بھی ہے ۔ ان کے کلام میں سچائی اور صداقت سے نظر آتی ہے۔ان کی شاعری نیم رومانی، نیم اشتراکی ہیں۔ سماجی شعور اور رومانی احساس، دو الگ الگ حقیقتیں ہیں مگر ان کی فطری ہم آہنگی شاعر اور شاعری کو زندگی کی صداقتوں سے روشناس ہی نہیں بلکہ ہم آغوش بھی کرتی ہیں۔انکی شاعری فطری ہے اور اسے کسی ازم کے خانے میں رکھنا مناسب نہیں ،سیدھے سچے جذبوں کی شاعری ، نہ کوئی پیچیدہ علامت نگاری اور نہ ہی لفظوں کی شعبدہ بازی ان کے اشعار ان کے جذبات ،احساسات اور مشاہدات کے تخلیقی اظہار پر قادر نظر آتے ہیں ۔انھوں نے اپنی شاعری میں بڑے سے بڑے مسائل کو آسان الفاظ میں طنز و مزاح کے پیرائے میں اس طرح بیان کیا کہ سننے والے کے کان سے ہوتے ہوئے وہ بات ان کے دل میں اتر جاتی ہیں ۔ان کے یہاں جہان معانی کی اک دنیا آباد نظر آتی ہیں ۔ان کے ئی اشعار دیکھے :
دلی نئی پرانی دیکھی
خیر و شر حیرانی دیکھی
کرسی کی سلطانی دیکھی
دھوتی پر شیراوانی دیکھی
بن راجہ کے راج کو دیکھا
بھارت کے سرتاج کو دیکھا
منتری مھراج کو دیکھا
الٹے سیدھے کاج کو دیکھا
کرسی ہے اب تخت کے بدلے
نرمی ہے اب سخت کے بدلے
اسی طرح علامہ اقبال کی نظم دعاکو انھوں نے اپنے طنز ومزاح کی صورت میںزمانی حقائق کو کچھ اس طرح ڈھالا ،کہتے ہیں :
لب پہ آتی ہے دعا بن کے یہ چاہت میری
زندگی قاب کے چمچوں کی ہو صورت میری
کالی دولت سے مرے گھر میں اجالا کردے
ار غریبوں کی غریبی کو دوبالا کردیں
چٹپٹی بات مری گرم مسالہ ہو جائے
خواہ جنتا کا مرے دم سے دوالا ہو جائے
زندگی ہو مری نیتاؤں کی صورت یا رب
ہو فقط اپنی غرض سے ہی محبت یا رب
رہوں آزاد نہ ہو قید مقا می مالک
دل بدلنا ہو مرا شغل دوامی مالک
ان کا ایک انداز مزاحیہ بھی ملاحظہ فرمائیںجس میں طنز کا نشتر بڑی خوبی سے چلا یا گیا ہیں :
بیگم نے ایک دن کہا نوکر کو بد تمیز
اس نے دیا کواب کہ کمتر نہیں ہوں میں
میڈم ذرا تمیز سے باتیں کیا کریں
نوکر ہوں آپ کا کوئی شوہر نہیں ہوں میں
ان کی معروف نظم’’شاعر اعظم ‘‘ جو ان کی پہچان بنی جس میں انھوں نے طنز و مزاح کے پیرائے میں اپنی آتم کتھا سنا ڈالی ملاحظہ فرمائیں :
خبط مجھ کو شاعری کا جب ہوا
دس منٹ میں ساٹھ غزلیں کہہ گیا
سب سے رو رو کر کہا سن لو غزل
تاکہ میں ہو جاؤں پھر سے نارمل
رحم اپنوں کو نہ آیا ذرا
تو پریشاں ہو کے ہو ٹل میں گیا
تاکہ مل جائے اک ایسا آدمی
چائے پی کر جو سنے غزلیں مری
جاکے بیٹھا ساتھ گھنٹے جب وہاں
اک معزز شخص آئے ناگہاں
دیکھتے ہی ہوگیا دل باغ باغ
اب تو ہوگا پیٹ ہلکا اور دماغ
بعد از آداب اور تسلیم کے
میں نے ان سے یہ کہا تعظیم سے
آئیے تکلیف اتنی کیجئے
چائے میرے ساتھ ہی پی لیجیے
آکے بیٹھے ساتھ جب کی التجا
آپ کا جو حکم ہو منگواؤں گا
مسکرا کر پھر تو بولے آنجناب
مرغ یختی قورمہ نرگس کباب
شیرمال و شاہی ٹکڑا فیرنی
اور اگر مل جائے تو چورن کوئی
توس مکھن دودھ کافی رائتا
الغرض جو کچھ کہا منگوا لیا
ناک تک جب کھا لیا میں نے کہا
ہو تعارف اب ہمارا آپ کا
نام اسرارؔ میرا محترم
ساری دنیا جانتی ہیں بیش و کم
شاعر اعظم ہوں میں عزت مآب
وہ یہ بولے میں تو بہرا ہوں جناب
یہ بڑے افسوس کا مرحلہ ہیں اردو ادب میں کہ جب تک وہ شخصیت زندہ ہوتی ہے ہم توجہ نہیں دیتے لیکن مرنے کے بعد علامہ کے درجے تک ان کی شخصیت اور فن کا اعتراف کرتے ہیں کاش ان کی زندگی میں ان کو سراہا ،سمجھا ،اور عزت دی ہوتی تو ان کی روح کو بھی سکون فراہم ہوتا ،لیکن آج انھوں نے اس جہان فانی کو الوداع کہہ دیا اور چھوڑ دی اپنے قلم سے نکلے بیش بہا ذخیرے کو اب یہ ہم پر ہیں کہ ہم اسے پڑھے اور استفادہ حاصل کریں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کریں ،میں اپنی باتوں کا اختتام ان کے اس شعر پر کرناچاہونگی کہ :
چھوڑ کر دنییائے دوں کو جائے گا جو کوئی بھی
اس کی بس تصویر اور تحریر ہی رہ جائے گی

Leave a Comment