بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ”ادب ،تاریخ اور ثقافت: جنوب ایشیائی تناظر اور سر سید احمد خان “ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر

\"12963427_1316670008360163_5641265543671244287_n\"
٭ڈاکٹر تہمینہ عباس
اسسٹنٹ پروفیسر
شعبۂ اردو، جامعہ کراچی۔
\"37\"
\"4\"

سر سید احمد خان کے دو سو سالہ یومِ پیدائش کے موقع پر شعبۂ اردو جامعہ کراچی نے تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا ۔اس کانفرنس کا مقصد نہ صرف سر سید احمد خان کو خراج تحسین پیش کرنا تھا ،بلکہ ان اثرات کو بھی سامنے لانا تھا جو سر سیدکی فکر کی بنا پر جنوبی ایشیا کے لوگوں ، ان کے افکار و تصوّرات اور ان کے طرزِ زندگی میں نمایاں ہوئے۔اس کانفرنس کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عہد حاضر میں بین الاقوامی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی ،معاشی اور تہذیبی صورتحال نیز فکری ابعار کے پس منظر میں سر سید جیسے عبقری کے تصورات اور عملی جہات کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لیا جاسکے۔
اس کانفرنس میں بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی مندوبین نے شرکت کی ۔غیر ملکی مندوبین میں ،پروفیسر ڈاکٹر ہینز ورنر ویسلر(شعبۂ ہندوستانیات،یونیورسٹی آف اُپسالا،سویڈن)، پروفیسر ابراہیم محمد ابراہیم السیّد (صدر نشین ،شعبۂ اردو،جامعہ الازہر،قاہرہ،مصر)، تلمیذ فاطمہ برنی( ریسرچ اسکالر، ڈیلس ،امریکہ)،پروفیسر ابو سفیان اصلاحی( علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،ہندوستان)، ڈاکٹر اشفاق حسین (کینیڈا)محترمہ حمیدہ معین رضوی(لندن)،عشرت معین سیما (جرمنی)شامل تھے۔
ملکی مندوبین میں ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر روبینہ ترین، ڈاکٹر قاضی عابد، ڈاکٹر فرزانہ کوکب، ڈاکٹر سجاد نعیم، ڈاکٹر خاور نوازش، ڈاکٹر سیال نے ملتان سے شرکت کی۔
لاہور سے ڈاکٹر نجیب جمال،ڈاکٹر ناصر عباس نیر،ڈاکٹر عبد الکریم خالد،پروفیسر ضیا الحسن،ڈاکٹررفاقت علی شاہد،،ڈاکٹر اشفاق احمد ورک، ڈاکٹر حمیرا ارشاد،ڈاکٹر عابدہ بتول ،ڈاکٹر اسما ء امانت،یاسمین کوثر ، ڈاکٹر نورین رزّاق، ڈاکٹر فرزانہ کوکب،محمد شعیب مرزا ،ڈاکٹر الماس خانم ، ڈاکٹر امجد عابد ،آغر ندیم سحر ،ڈاکٹر شازیہ رزاق، فائزہ بشیر، ڈاکٹر شبنم نیاز اور سعدیہ بشیر نے شرکت کی۔
ڈاکٹر سبینہ اویس اعوان ، ڈاکٹر شگفتہ فردوس نے سیالکوٹ سے، ڈاکٹر ندیم عباس اشرف نے ساہیوال سے، فیصل ریحان نے کوئٹہ سے ،ڈاکٹر یوسف خشک اور ڈاکٹر صوفیہ خشک نے خیرپور سے،ڈاکٹر محمد گل عباس اعوان نے لیّہ سے، ڈاکٹر محمد رفیق الاسلام نے بہاولپور سے، ڈاکٹر غلام عباس نے سرگودھاسے، ڈاکٹر اشفاق بخاری نے نوشہرہ، ڈاکٹر اویس قرنی نے پشاور سے شرکت کی ۔
عمران ازفر ،ڈاکٹر عابد سیال ،ڈاکٹر سعدیہ طاہر ، ڈاکٹر نثار ترابی،ارم صبا ، صنم شاکر ، بی بی امینہ اسلام آباد سے،ڈاکٹر طارق محمود ہاشمی ،ڈاکٹر اصغر علی بلوچ فیصل آبادسے، ڈاکٹر زاہد حسین چغتائی ، ڈاکٹر روش ندیم ،فرحت جبیں ورک راولپنڈی سے تشریف لائے۔
کراچی سے ڈاکٹر فاطمہ حسن،پروفیسر سید جعفر احمد،ڈاکٹر سہیل شفیق، ڈاکٹرسمیرا بشیر،ڈاکٹر زیبا افتخار ، ڈاکٹر سید عزیز الرحمن، حیات رضوی امرہویں، ڈاکٹر محمد عاطف اسلم راؤ، عفت بانو،سید محمد عثمان،ڈاکٹر خالد امین، زہرا صابری ،ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر ،ڈاکٹر نزہت عباسی،اسماحسن ،سائرہ سلمان،محمد صابر ، ڈاکٹر ثمر سلطانہ، ڈاکٹر عظمی حسن،نزہت انیس ،سمیرا یونس ،محمد سلمان، شرفِ عالم، ڈاکٹر رخسانہ صبا،
توقیر فاطمہ ،سید محمد شمیم، محمد شاکر،ڈاکٹر انصار احمد، ڈاکٹر محمد علی،ڈاکٹر زیبا افتخار،ڈاکٹر شمع افروز، ڈاکٹر یاسمین سلطانہ فاروقی،ڈاکٹر تہمینہ عباس،ڈاکٹر صدف تبسم،ڈاکٹر ذکیہ رانی، شہنیلا نازنین نے کانفرنس میں اپنے مقالے پیش کیے۔
افتتاحی اجلاس کی صدارت شیخ الجامعہ ڈاکٹر اجمل نے کی انھوں نے کہا کہ ’’یہ کانفرنس جامعہ کراچی کے وقار میں اضافے کا باعث ہوگی‘‘۔یہ کانفرنس تین روز جاری رہی جس میں پہلے دن افتتاحی اجلاس کے بعد سات متوازی نشستیں انتہائی کامیابی سے منعقد ہوئیں۔دوسرے دن چار متوازی نشستیں چائے سے قبل اور چار متوازی نشستیں چائے کے بعد منعقد ہوئیں۔اس کانفرنس میں دو روز میں پندرہ متوازی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں کم و بیش پچاسی مقالہ نگاروں نے اپنے مقالے پیش کیے۔پچپن کے قریب اسکالرز نے صدور کے فرائض انجام دیے۔
کانفرنس کے تیسرے دن اختتامی اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر راحت افشاں نے انجام دیے ۔ اس اجلاس کی صدارت رئیس کلیہ سماجی علوم ڈاکٹر احمد قادری نے کی۔اس اجلاس کے مہمان خصوصی،ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر تحسین فراقی، ڈاکٹر فاطمہ حسن، ڈاکٹر ذوالقرنین شاداب تھے۔اختتامی اجلاس میں ڈاکٹر ہینس ورنر ویسلر(سویڈن)، ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم(مصر)تلمیذ فاطمہ (امریکہ) ، ڈاکٹر اشفاق حسین (کینیڈا)،ڈاکٹر انوار احمد (ملتان)،ڈاکٹر نجیب جمال(لاہور)،ڈاکٹر ضیاالرحمن (کوئٹہ) ڈاکٹر شاداب احسانی(کراچی)،ڈاکٹر یوسف خشک(خیر پور)،عابد سیال(اسلام آباد)،نے اپنے تاثرات پیش کیے اور کانفرنس کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔
شعبۂ اردو کی چیئر مین ڈاکٹر تنظیم الفردوس کے ایک جملے پر حاضرین کی آنکھوں میںآنسوؤں کے ستارے جھلملانے لگے۔’’کیا سوچا تھا؟ کیا پایا؟ڈاکٹر تنظیم الفردوس ملکی اوربین الاقوامی سطح پر بحیثیت محقق ، شاعرہ اور ادیبہ جانی جاتی ہیں ۔بحیثیت صدر نشین شعبۂ اردو، کامیاب بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی دلیل ہے۔ملک اور بیرون ملک سے آئے ہوئے تمام مندوبین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس قدر مصروفیت کے باوجود بھی ڈاکٹر صاحبہ تما م مندوبین سے فون پر اور براہ راست رابطے میں رہیں۔کئی مندوبین کو خوش آمدید کہنے ایئر پورٹ خود تشریف لے گئیں۔بے تحاشا تھکن ، اور کاموں کے بوجھ کے باوجود ڈاکٹر تنظیم الفردوس کی پر جوش مسکراہٹ اساتذہ اور طلبہ کے حوصلے بڑھانے کے کام آئی ۔غیر یقینی صورتحال میں بھی ڈاکٹر تنظیم الفردوس کا تحمل دیکھنے والا تھایقیناًشعبۂ اردو کے اساتذہ اور طلبہ کو ڈاکٹر صاحبہ سے تربیت حاصل کرنی چاہیے۔
ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے اختتامی اجلاس کے آخر میں تشکر کے کلمات پیش کرتے ہوئے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ اس نے سر سید کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور اپنے طلبہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی بھرپور شرکت اور تعاون سے کانفرنس کامیاب ہوئی۔شعبۂ اردو ،جامعہ کراچی کے ان اساتذہ کا شکریہ ادا کیا جن کی دن رات محنت اور انتظامات کی بدولت تمام کام نظم و ضبط کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچے۔
شعبہ اردو جامعہ کراچی کی تاریخ میں سر سید احمد خان دوسو سالہ یادگاری بین الاقوامی کانفرنس،ا س لحاظ سے بھی اہمیت کی حامل ہے کہ یہ شعبۂ اردو کی باسٹھ سالہ تاریخ میں پہلی بین الاقوامی کانفرنس ہے جس کا سہرا بلا شبہ شعبے کی صدر نشن، ڈاکٹر تنظیم الفردوس اور پروفیسر ڈاکٹر رؤف پاریکھ کے سر جا تا ہے۔اس کانفرنس کی بدولت شعبۂ اردو پر کئی عشروں سے چھائے ہوئے جمود کاخاتمہ ہوا۔یاد رہے کہ اس کانفرنس میں شعبۂ اردو کے ساتھ ،انجمن ترقی اردو پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کا تعاون شامل تھا ۔
اس کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں سر سید احمد خان کے حوالے سے تین کتابوں کی تقریب رونمائی بھی ہوئی جس میں ڈاکٹر ذکیہ رانی کی کتاب’’فوقیت سر سیداحمد خان تحقیقی تناظر‘‘ ڈاکٹر تہمینہ عباس کی ’’قومی زبان اور سر سید شناسی‘‘ڈاکٹر رخسانہ صبا کی ’’جہات سر سید‘‘ شامل تھی۔کانفرنس ہال کے باہر کتب میلے کا اہتمام بھی موجود تھا جس میں ،آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ،انجمن ترقی اردو پاکستان، پاکستان اسٹڈی سینٹر ،نیشنل بک فاؤنڈیشن،اور فضلی سنز کے کتابوں کے اسٹال موجود تھے۔کانفرنس میں طلبہ کا ذوق و شوق اور نظم و ضبط دیکھنے والا تھا۔یہ کانفرنس اس حوالے سے بھی اہم تھی کہ اس میں کراچی اور دوسرے شہروں کے نوجوان محقیقن اور اساتذہ کو اپنے مقالے پڑھنے کا موقع ملا۔اس کانفرنس کی بدولت علمی اداروں اور علمی شخصیات سے شعبہ اردو کے براہ راست روابط میں اضافہ ہوا۔
سردار بہادر خان یونیورسٹی کوئٹہ کے ڈین ڈاکٹر ضیا الرحمن نے اپنے خطبے میں کہا کہ ’’ اس کانفرنس میں سر سید کے ہمہ جہت پہلوؤں سے آگاہی حاصل تو ہوئی ہی اس کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر تنظیم الفردوس ، اساتذہ شعۂ اردو اور طلبہ شعبۂ اردو نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اتحاد کی بدولت بڑے سے بڑا کام سہل طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے‘‘۔
ڈاکٹر انوار احمد نے کہا کہ ’’میں نے بہت طویل عرصے کے بعد ، اس یادگاری بین الاقوامی کانفرنس کے ذریعے ایک منظر نامہ دیکھا اور یہ منظر نامہ ہم سب کو ایک پیغام دے رہا ہے۔‘‘
اصغر علی بلوچ نے اپنے کالم’’حرف سادہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’تنظیم الفردوس ، ان کے اہل خانہ، اراکین شعبۂ اردو اور طلبہ و طالبات نے جس طرح شب و روز محنت سے اس کانفرنس کو کامیاب کرایا ، وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔اور دنیا کے اتنے بڑے اجتماع پر جامعہ کراچی کا شعبۂ اردو قابل صد مبارک باد ہے‘‘
ڈاکٹر زاہدہ حنا نے اپنے کالم’’نرم گرم‘‘ میں ایک یادگاری بین الاقوامی کانفرنس کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ’’ایک علمی اور ادبی کانفرنس کو ابتدا سے انتہا تک کامیابی سے ہمکنار کرنا، ایک بڑی بات ہے۔ اور کراچی میں یہ کام ہوگیا جس کے لیے منتظمین قابلِ ستائش ہیں۔
\"21\"
\"34\"
\"12\"

Leave a Comment