صدیق مجیبی کی برسی پر عہد نامہ پبلی کیشنز کے زیر اہتمام مذاکرہ کا انعقاد

تہہ دار معنی اور انفرادی لب و لہجے کے شاعر تھے صدیق مجیبی۔: پروفیسر مولا بخش

\"IMG_20170306_214656\"

علی گڑھ (اسٹاف رپورٹر)علی گڑھ منفرد لب و لہجے کے شاعر ڈاکٹر صدیق مجیبی کی تیسری برسی کے موقع پر انوار الہدیٰ کمپائونڈ علی گڑھ میں عہد نامہ پبلی کیشنز کے زیر اہتمام ایک محفل مذاکرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین نے صدیق مجیبی کے فن اور شخصیت پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ا ن کو اردو شاعری میں وہ مقام و مرتبہ نہیں مل سکا جس کے وہ حقدار تھے ۔ پروفیسر مولا بخش (شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ) نے صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے انھیں منفرد لب و لہجے اور تہہ دار معنی کا ایسا شاعر قرار دیا جس نے تہذیبی سوالات قائم کیے۔ انھو ں نے کہا کہ صدیق مجیبی کا مطالعہ انتہائی وسیع تھا ۔ ان کی شاعری میں استعاروں کی ایک پوری کہکشاں موجود ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صدیق مجیبی کی شاعری کا مطالعہ ما بعد جدید نہج پر کیا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ویمنس کالج کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سرور ساجد نے صدیق مجیبی کا تعارفی خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جدید غزل سے متعلق 1980کے بعد جو بھی مضامین لکھے گئے ان میں صدیق مجیبی کو کوٹ کیا جاتا رہا ہے۔ صدیق مجیبی کی شاعری کی ابتدا ترقی پسندوں کے زیر اثر ہوئی لیکن بعد میں انھوں نے جدیدیت کے اثرات بھی قبول کیے ۔ انھوں نے کہا کہ صدیق مجیبی نے ہمیشہ شاعری کو اولیت دی اور ان کی غزلوں میں لفظوں کا احترام بنیادی وصف ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صدیق مجیبی ماخذ کی چلتی پھرتی لائبریری بھی تھے۔معروف شاعر اور نقاد اور شعبہ اردو میں ایسو سی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد انور راشد نے صدیق مجیبی سے اپنے دلی رشتوں کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عام شعراء کے بر خلاف ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا ۔وہ علم کا دریا تھے۔ ان سے فیضیاب ہونے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ وہ چھوٹوں کی تربیت اور حوصلہ افزائی میں فراخ دلی کا اظہار کرتے تھے۔ شعبہ ہندی کے ڈاکٹر پنکج پراشر نے کہا کہ ہندی کے مکتی بودھ اوراردو کے صدیق مجیبی صاحب کو زندگی میں مسلسل نظر انداز کیا گیا لیکن بعد میں وہ بڑے شاعر تسلیم کیے گئے۔ انھوں نے کہا کہ صدیق مجیبی کے کلام کو ناگری رسم الخط میں بھی شائع کیا جانا چاہیے تاکہ زیادہ قارئین مستفیض ہو سکیں۔ اردو اکادمی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر زبیر شاداب نے صدیق مجیبی کے فن پر جامع اندز میں روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی شاعری بولتی ہے کہ انھیں فلسفہ اور نفسیات پر عبور حاصل تھا۔ انھوں نے کربلائی استعاروں کو منفرد انداز میں برتا ہے۔ تراکیب کو ہٹا کر شاعری کرنے والوں میں صدیق مجیبی کو شہر یار کے برابر رکھا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر مشتاق صدف نے کہا کہ کشادہ دلی اور عبور کے ساتھ علمی گفتگو ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔ انھیں اہم مقام ملنا چاہیے۔ شعبہ اردو کے استاد معید رشیدی نے کہا کہ ان کے علم اور بذلہ سنجی سے ہر شخص متاثر ہوتا تھا ۔ ادبی سیاست مراکز سے الگ کے علاقوںسے آنے والے فنکاروں کو ابھرنے نہیں دیتی ۔ ان کا قلندرانہ انداز بھی بہت متاثر کرتا تھا۔ ڈاکٹر عمر رضا نے کہا کہ صدیق مجیبی کو ان کا حق دلانے کے لیے اب کوششیں کی جانی چاہیے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فرقان سنبھلی نے انجام دیے ۔ اس موقع پر،عبدالباسط،مشہور احمد وغیرہ بھی موجود تھے۔

Leave a Comment